آخرت کا اعلان
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۲، صفحہ ۴۴
آخرت کا اعلان
مسلمان خدا کی طرف سے اس ذمہ داری پر مقرر کئے گئے ہیں کہ وہ دنیا کی تمام قوموں کو بتا دیں کہ قیامت کا ایک دن آنے والا ہے جب کہ ان کا رب ان سے ان کا حساب لے گا اور پھر ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق انعام یا سزا دے گا۔ اس تقرر نے ان کے حال اور مستقبل کو تمام تر اس کام کے ساتھ باندھ دیا ہے۔ ان کی قیمت صرف اس وقت ہے جب کہ وہ خدائی پیغام رسانی کی اس خدمت کو انجام دیں۔ اگر وہ اس کے لئے نہ اٹھیں تو خدا کے نزدیک وہ اپنی قیمت کھو دیں گے۔
اس کام کو چھوڑنے کے بعد کوئی بھی دوسری چیز ان سے قبول نہ کی جائے گی خواہ بظاہر وہ دین و ملت ہی کا کوئی کام کیوں نہ ہو۔ اس ذمہ داری سے غافل ہونے کے بعد خدا ان کو ان کے دشمنوں کے حوالے کر دے گا۔ ان کے اوپر دوسری قومیں غلبہ حاصل کریں گی ۔ حتى کہ دوسری بنیادوں پر اٹھائی ہوئی ان کی اسلامی سرگرمیوں پر بھی رولر چلا دیا جائے گا ۔ خود ساختہ خیالات کے تحت اگرچہ وہ خوش فہمیوں میں مبتلا رہیں گے ۔ مگر حالات کی بے رحم زبان چیخ کر کہہ رہی ہوگی کہ ان کا خدا ان کو چھوڑ چکا ہے۔
دنیا کی قوموں کے سامنے آخرت کا اعلان کرنے کے لئے اگر مسلمان نہیں اٹھتے تو ان کی کوئی قیمت خدا کے نزدیک نہیں ہے، نہ دنیا میں اور نہ آخرت میں۔ یہود کی تاریخ اس حقیقت کو سمجھنے کے لئے کافی ہے۔ آدمی کی قیمت اس ذمہ داری کے اعتبار سے ہوتی ہے جس کی ادائیگی پر اس کو مامور کیا گیا ہے۔ پھر مسلمان جب اپنی ذمہ داری ہی کو ادا نہ کریں تو اس کے بعد ان کی قیمت ان کے مالک کے نزدیک کیا ہوگی۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1982 All issues