Al-Risala · April 1982 · page 8

اُس دن

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۲، صفحہ ۸

اُس دن

آج کی دنیا میں آدمی کھاتا پیتا ہے۔ گھر بناتا ہے۔ عہدے اور ترقیاں حاصل کرتا ہے۔ وہ جس بات کو چاہتا ہے اسے مانتا ہے اور جس بات کو چاہتا ہے اسے رد کر دیتا ہے۔ وہ آزاد ہے کہ جو چاہے بولے، وہ آزاد ہے کہ جو چاہے کرے اور جس رخ پر چاہے اپنی زندگی کا سفر شروع کر دے۔

یہ صورت حال آدمی کو دھوکے میں ڈالے ہوئے ہے۔ وہ اپنی موجودہ حیثیت کو مستقل حیثیت سمجھ بیٹھا ہے۔ حالانکہ اس کی اصل حیثیت یہ ہے کہ وہ حالت امتحان میں ہے اور یہاں جو کچھ اسے ملا ہوا ہے وہ صرف وقتی طور پر ملا ہوا ہے۔ بہت جلد وہ دن آنے والا ہے جب یہ تمام حیثیتیں اور سامان اس سے چھن جائے گا۔ حتیٰ کہ لباس بھی اتار لیا جائے گا جو آدمی کے اثاثہ کی آخری چیز ہوتا ہے۔ وہ اچانک اپنے آپ کو اس حال میں پائے گا کہ وہ ایک بے زور مجرم کی طرح مالک کائنات کے سامنے کھڑا ہوا ہے۔

اس دن ساری اونچ نیچ مٹ جائے گی۔ خوف و دہشت سے لوگوں کی زبانیں بند ہو چکی ہوں گی۔ آدمی کے اپنے وجود کے سوا ہر چیز اس کا ساتھ چھوڑ دے گی۔ کسی کے لئے یہ موقع نہ ہوگا کہ بے انصافی کر کے بھی کامیاب ہو اور حق کو نظر انداز کر کے بھی حق کا ٹھیکیدار بنا رہے ۔

اس آنے والے دن کو جو شخص آج دیکھ لے وہی کامیاب ہے۔ جو شخص اسے کل دیکھے گا اُس کے لئے اس کے سوا کوئی انجام نہیں کہ وہ ہمیشہ کے لئے رسوا ہو کر آگ کا عذاب سہتا رہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1982 All issues

Printed page