صرف کریڈٹ
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۲، صفحہ ۹
صرف کریڈٹ
اس دنیا میں کسی آدمی کو کوئی ذاتی طاقت حاصل نہیں ۔ کوئی شخص نہ کسی کو کچھ دیتا، نہ کوئی شخص کسی سے کچھ چھینتا۔ ہر واقعہ جو اس زمین پر ہوتا ہے وہ خدا کی اجازت سے ہوتا ہے۔ انسان کی ساری حیثیت یہ ہے کہ وہ اس دنیا میں امتحان کے لئے ہے۔ اور یہ امتحان بھی، صرف ارادہ کی حد تک ہے۔ ارادہ کے سوا انسان کے بس میں اور کچھ نہیں۔ بظاہر سب کچھ اسباب کے اعتبار سے ہورہا ہے۔ مگر اسباب کی حیثیت ظاہری پردہ سے زیادہ نہیں۔ اس دنیا میں کسی واقعہ کو ظہور میں لانے کے لئے اسباب وعلل کی اتنی زیادہ کڑیاں درکار ہیں جن کی فراہمی کسی انسان کے بس میں نہیں۔ یہ حقیقۃً خدا ہے جو اپنے فرشتوں کے ذریعہ یہ تمام کڑیاں فراہم کرتا ہے۔
جو واقعات ہوتے ہیں وہ اس لئے آدمی کے سامنے لائے جاتے ہیں کہ اس کی جانچ ہو، تاکہ اس کا خدا یہ دیکھے کہ اس کا بندہ مختلف رویوں میں سے کس رویہ کا اپنے لئے انتخاب کرتا ہے۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک صورت حال میں ڈال کر دیکھا جاتا ہے کہ آدمی نے اپنی زبان حق کے لئے کھولی یا ناحق کے لئے۔ کبھی ایک واقعہ کے درمیان یہ دیکھنا مقصود ہوتا ہے کہ آدمی انصاف کا رویہ اختیار کرتا ہے یا بے انصافی کا۔ کبھی ایک واقعہ کے ذریعہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ آدمی اپنے عہد پر قائم رہتا ہے یا عہد سے پھر جاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ واقعات کا اہتمام خدا کی طرف سے ہوتا ہے۔ انسان تو صرف اچھا یا برا کریڈٹ لے رہا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1982 All issues