Al-Risala · May 1982 · page 28

غلطی مان لینے سے

الرسالہ، مئی ۱۹۸۲، صفحہ ۲۸

غلطی مان لینے سے

ایک پریس نے ایک مرتبہ ایک بڑے ادارے کی کتاب چھاپی۔ کتاب کی تعداد پانچ ہزار تھی۔ کتاب جب چھپ کر اور مکمل ہو کر ادارہ میں پہنچی تو اس کے بعد ادارہ کے منیجر کا ٹیلی فون آیا۔ وہ کہہ رہا تھا ”آپ فوراً یہاں آ کر مجھ سے ملے'' پریس کا مالک پہنچا تو ادارہ کا منیجر اس کے اوپر برس پڑا۔ اس نے مطبوعہ کتاب کے چند نسخے دکھاتے ہوئے کہا ”یہ دیکھئے، اس کی کٹنگ کتنی غلط ہوئی ہے۔ “ پریس کے مالک نے دیکھا تو واقعی کٹنگ ترچھی ہو گئی تھی جس کی وجہ سے ایک طرف کا کو نا زیادہ نکلا ہوا تھا۔ پریس کے مالک نے دیکھا اور خاموش رہا۔ دوسری طرف ادارہ کا منیجر مسلسل بگڑے چلا جا رہا تھا آخر جب وہ اپنے تمام الفاظ ختم کر چکا تو پریس کے مالک نے سنجیدگی کے ساتھ کہا:

”آپ کیوں اس قدر پریشان ہیں نقصان تو ہمارا ہوا ہے، ہم کو پریشان ہونا چاہئے“ ”کیا مطلب، آپ کا نقصان کیسا “ ”ظاہر ہے کہ اس حالت میں میں آپ کو کتاب نہیں دے سکتا۔ اس کو تو میں واپس لے جاؤں گا اور دوبارہ آپ کو دوسری کتاب چھاپ کر دوں گا۔ یہ میری ذمہ داری ہے۔ خواہ مجھے کتنا ہی نقصان ہو مگر مجھے آپ کو صحیح کام دینا ہے“ پریس کے مالک کی زبان سے ان الفاظ کا نکلنا تھا کہ ادارہ کے منیجر کا لہجہ یکایک بدل گیا۔ وہی شخص جو پہلے بگڑے ہوئے انداز میں بول رہا تھا اب اس کا رویہ ہمدردانہ ہو گیا۔ کیونکہ پریس والے نے اپنی غلطی تسلیم کر لی تھی ۔ ادارہ کے منیجر کو عام رواج کے مطابق اس کی امید نہیں تھی۔ مگر جب اس نے دیکھا کہ وہ نہ صرف اپنی غلطی مان رہا ہے بلکہ اس کی پوری تلافی کرنے کے لئے تیار ہے تو اس کا متاثر ہونا بالکل فطری تھا۔

”نہیں آپ اتنا نقصان کیوں برداشت کریں“ اس نے اپنا انداز بدلتے ہوئے کہا۔ جب پریس کے مالک نے دیکھا کہ منیجر کا دل نرم پڑ چکا ہے تو اس نے منیجر سے کہا: ایک شکل سمجھ میں آتی ہے ۔ آپ مجھے چند کتابیں دے دیجئے ۔ میں کوشش کرتا ہوں۔ اگر کامیابی ہو گئی تو دوبارہ چھپوانے کی ضرورت نہ ہوگی۔ منیجرنے کہا : بڑے شوق سے، آپ ضرور کوشش کیجئے۔ اس کے بعد پریس کا مالک کتاب کے دس نسخے لے کر واپس آگیا۔ اس نے اچھی مشین میں احتیاط سے کٹا کر کتاب کے چاروں کونے دوبارہ صحیح کرائے۔ اب پریس کا مالک اس کو لے کر ادارہ کے ۔ منیجر کے پاس گیا۔ مینیجر اس کو دیکھ کر خوش ہو گیا۔ اس نے کہا، بالکل ٹھیک ہے، اسی طرح آپ سب کتابیں درست کرا دیجئے ۔ “ گاہک کی نظر میں جو غلطی ایک انچ کی ہوتی ہے اس کو میں ایک فٹ کے برابر ماننے کے لئے تیار رہتا ہوں“ پریس کے مالک نے کہا ” یہ در حقیقت کسی کاروبار میں کامیابی کے لئے بے حد اہم ہے۔ گاہک کو مطمئن کرکے آپ گاہک کو ہر چیز پر راضی کر سکتے ہیں، بلکہ میرا تو یہ حال ہے، پریس کے مالک نے مزید کہا ”کہ اگر میرے کام میں غلطی ہو گئی ہے اور وہ میری نظر میں آجاتی ہے تو میں خود ہی گاہک کو بتا دیتا ہوں کہ مجھ سے فلاں غلطی ہو گئی ہے۔ اب تلافی کی جو شکل بتاؤ، میں اس کے لئے تیار ہوں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ گاہک کو ہمدردی ہو جاتی ہے۔ اور بغیر کسی ناخوش گواری کے معاملہ ختم ہو جاتا ہے۔ “

‹ Previous page Next page › Contents of May 1982 All issues

Printed page