شیر کا سبق
الرسالہ، مئی ۱۹۸۲، صفحہ ۲۹
شیر کا سبق
جم کاربٹ (Jim Corbett) شیر کے مطالعہ کا ماہر سمجھا جاتا ہے۔ اس کے نام پر ہندوستان میں حیوانات کا ایک پارک بنا ہوا ہے۔ جم کاربٹ نے لکھا ہے کہ کوئی شیر کسی آدمی پر اس وقت تک حملہ نہیں کرتا جب تک کہ اس کو اپنی طرف سے کوئی کارروائی کر کے بھڑکانہ دیا جائے:
No tiger attacks a human being unless provoked
جو لوگ جنگل کے علاقوں میں رہتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ اگر کبھی ان کا سابقہ شیر سے پڑ جائے تو اس میں خطرہ کی کوئی بات نہیں ہے۔ کیونکہ شیر اپنا راستہ چلتا ہوا گزر جائے گا بشرطیکہ اس کو چھیڑا نہ جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ شیر اپنی فطرت کے اعتبار سے انسان دشمن جانور نہیں۔ شیر کے لئے "مردم خور" کا لفظ صرف اتفاقی معنی میں صحیح ہے۔ شیر پیدائشی طور پر مردم خور نہیں ہوتا۔ بلکہ بعض نادان انسانوں کی کارروائیاں کسی شیر کو مردم خور بنا دیتی ہیں۔ کسی شیر کو مردم خور بنانے والے اکثر وہ غیر ماہر شکاری ہوتے ہیں جو کافی تیقن کے بغیر شیر کے اوپر اپنا کارتوس خالی کر دیتے ہیں۔ وہ شیر مارنے کے شوق میں شیر پر گولی چلاتے ہیں۔ مگر کافی مہارت نہ ہونے کی وجہ سے ان کی گولی صحیح نشانہ پر نہیں پڑتی اور اچٹتی ہوئی نکل جاتی ہے۔ شیر معمولی طور پر زخمی ہو جاتا ہے مگر وہ مرتا نہیں۔ اس قسم کا زخم خوردہ شیر انسان کا دشمن ہو جاتا ہے۔ وہ جہاں کہیں بھی انسانی صورت کو دیکھتا ہے اس کو اپنا دشمن سمجھ لیتا ہے اور اس پر حملہ کر کے اسے ختم کر دیتا ہے۔ یہی حال اکثر درندہ جانوروں کا ہے۔
اس مثال میں ہمارے لئے دو بہت بڑے سبق ہیں۔ ایک یہ کہ کسی کو پیشگی طور پر اپنا "دشمن" سمجھ لینا درست نہیں۔ حتیٰ کہ ایک درندہ صفت انسان کو بھی نہیں۔ کوئی شخص اسی سے دشمنانہ معاملہ کرتا ہے جس کو وہ اپنا دشمن سمجھ لے۔ اگر ہم اپنے کو دشمن ظاہر نہ کریں تو دوسرا بھی ہم سے دشمن کا سلوک نہیں کرے گا۔ دوسرا سبق یہ ہے کہ نا کافی تیاری کے بغیر کبھی کسی کے خلاف کارروائی نہیں کرنا چاہئے۔ اگر آپ اپنے حریف پر ایسے اقدامات کریں جو کافی تیاری کے بغیر کئے گئے ہوں اور اس بنا پر وہ فیصلہ کن نہ بن سکیں تو ایسا اقدام آپ کے حریف کو پہلے سے زیادہ مشتعل کر کے آپ کے مسئلہ کو اور زیادہ سنگین بنا دے گا ۔ ہر شخص خود اپنے اندرونی تقاضے کے تحت اپنی ضرورتوں کی تکمیل میں مشغول رہتا ہے اور اگر ضرورتیں پوری ہو جائیں تو ہوس کی تکمیل میں۔ یہ ایک قدرتی نظام ہے جو لوگوں کو ایک دوسرے سے روکے رہتا ہے۔ آپ دوسرے کو نہ چھیڑئے اور آپ دوسرے کے ظلم سے محفوظ رہیں گے۔ کیوں کہ یہاں ہر ایک اپنے آپ میں اتنا مشغول ہے کہ اس کو دوسرے کے خلاف سوچنے کی فرصت نہیں۔