اندر اور باہر کا فرق
الرسالہ، مئی ۱۹۸۲، صفحہ ۳۰
اندر اور باہر کا فرق
اپالو۔ ۸ کے تین خلائی مسافر ۲۷ دسمبر ۱۹۶۸ کو بحر الکاہل میں اترے تھے۔ زمین سے چاند تک کا سفر کرنے میں ان امریکی خلا بازوں کو چھ دن تین گھنٹے لگے اور انھوں نے تقریباً پانچ لاکھ ۲۵ ہزار میل کا سفر طے کیا۔ ان کے سفر کا سب سے زیادہ نازک لمحہ وہ تھا جب کہ ان کا چھ ٹن وزنی جہاز ساٹھ میل کے فاصلہ سے چاند کا چکر لگا کر دوبارہ زمین کے قریب واپس پہنچا۔
امریکی راکٹ جب زمین کی بیرونی فضا میں داخل ہوا تو زمین کی کشش کی وجہ سے اس کی رفتار غیر معمولی طور پر بڑھ کر ۳۹ ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ ہو گئی۔ چاند کے مقابلہ میں اس کو سات گنا زیادہ قوت کشش کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنا سفر جاری رکھنا تھا۔ اس غیر معمولی رفتار کی وجہ سے خلائی جہاز انتہائی خوفناک قسم کی گرمی سے دو چار ہوا۔ کرہ فضا میں داخل ہوتے ہی خلائی جہاز ہوا کی رگڑ سے گرم ہونا شروع ہوا۔ یہاں تک کہ وہ آگ کے انگارے کی طرح سرخ ہو گیا۔ اس وقت خلائی جہاز کے بیرونی حصہ کی تپش تین ہزار تین سو سینٹی گریڈ (۶ ہزار ڈگری فارن ہائیٹ) تھی، جب کہ صرف سو ڈگری کی حرارت پر پانی ابلنے لگتا ہے۔
تین ہزار تین سو ڈگری سینٹی گریڈ کی حرارت میں کوئی جاندار زندہ نہیں رہ سکتا۔ پھر اس غیر معمولی تپش میں تینوں خلائی مسافر کس طرح زندہ سلامت رہ کر واپس آگئے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ جس خلائی جہاز کے اندر وہ بند تھے، وہ خاص طور پر اس ڈھنگ سے بنایا گیا تھا کہ وہ باہر کی شدت کو اندر نہ پہنچنے دے۔ چنانچہ سخت ترین گرمی کے باوجود اس کے اندر کا درجہ حرارت ۲۱ ڈگری سینٹی گریڈ سے آگے نہیں بڑھا۔ باہر کا درجہ حرارت تین ہزار تین سو اور اندر کا درجہ حرارت صرف ۲۱۔
خلائی سفر کا یہ واقعہ اپنے اندر بڑا سبق رکھتا ہے۔ انسانی زندگی میں بھی بار بار ایسے سخت مرحلے آتے ہیں جب بیرونی ماحول انتہائی طور پر آپ کے خلاف ہو جاتا ہے۔ اس وقت حالات کی شدت سے بچنے کی صرف ایک سبیل ہوتی ہے۔ وہ یہ کہ آپ اپنے اندرونی جذبات کو دبائیں اور اپنے احساسات پر قابو رکھتے ہوئے اس کو معتدل حالت پر قائم رکھیں۔ اگر ایسا ہو کہ آپ کے ”اندر“ بھی شدت کا وہی حال ہو جائے جو آپ کے ”باہر“ ہے تو آپ اپنے کو تباہ کر لیں گے۔ اس کے برعکس اگر اندر کی شدت باہر سے غیر متاثرہ رہ کر اعتدال کی حالت پر قائم رہے تو آپ باہر کی ”آگ“ سے محفوظ رہیں گے اور بالآخر سلامتی کے ساتھ کامیابی کی منزل پر پہنچ جائیں گے۔ زندگی کا راز یہ ہے کہ آپ کے باہر اگر آپ کے خلاف نفرت اور بغض پایا جاتا ہو تو آپ اس نفرت اور بغض کو اپنے اندر داخل نہ کریں۔ بلکہ اپنے کو قابو میں رکھ کر اپنے اندر محبت اور درگزر کے جذبات کی پرورش کریں۔ باہر کی دنیا آپ کے ساتھ برائی کا معاملہ کرے تو آپ بھلائی کی صورت میں اس کا جواب دیں۔ یہی طریقہ زندگی اور کامیابی کا طریقہ ہے۔ اگر آپ بھی ہو گئے جیسا ماحول تھا تو یقیناً آپ مقابلہ کی اس دنیا میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔