ایک تجارتی راز
الرسالہ، مئی ۱۹۸۲، صفحہ ۳۳
ایک تجارتی راز
محلہ میں کئی مسلم ہوٹل ہیں۔ میں دس سال سے ان دیکھ رہا ہوں۔ مگر ان میں صرف ایک ہوٹل ایسا ہے جو اس مدت میں مسلسل ترقی کرتا رہا ہے۔ باقی تمام ہوٹل جہاں دس سال پہلے تھے وہیں آج بھی پڑے ہوئے ہیں۔ ترقی کرنے والے ہوٹل کے مالک سے میں نے ایک روز پوچھا کہ آپ کی ترقی کا راز کیا ہے۔ ’’بالکل سادہ‘‘ انھوں نے جواب دیا ’’جو چیز دوسرے ہوٹل والے کلو میں خریدتے ہیں اس کو ہم مچول میں خریدتے ہیں۔ ہر خریداری کے وقت ہم پورے بازار کو دیکھتے ہیں اور جو چیز جہاں کفایت سے ملتی ہے اس کو وہاں سے لیتے ہیں۔ زیادہ مقدار اور نقد خریداری کی وجہ سے چیز ہم کو اور بھی سستی پڑ جاتی ہے‘‘ اس کے بعد انھوں نے ہنس کر کہا ’’گاہک سے نہیں کمایا جاتا، بازار سے کمایا جاتا ہے‘‘ عام طور پر دکان داروں کا یہ حال ہے کہ جو گاہک سامنے آجائے بس اس کی جیب سے زیادہ سے زیادہ پیسے نکال لینے کو دکان داری سمجھتے ہیں۔ یہ دکان داری نہیں لوٹ ہے اور جس دکان دار کے بارے میں مشہور ہو جائے کہ وہ ’’لوٹتا ہے‘‘ اس کے یہاں کون خریداری کے لئے جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اس قسم کے دکان دار زیادہ ترقی نہیں کرپاتے۔ دکان داری کا زیادہ اعلیٰ طریقہ یہ ہے کہ مال کی خریداری کے وقت آپ کو کوشش کریں کہ آپ کو کم قیمت میں مال ملے تاکہ عام نرخ سے گاہک کو دینے کے بعد بھی آپ کو زیادہ فائدہ حاصل ہو۔
یہ اصول ہر قسم کے کاروبار کے لئے صحیح ہے۔ ہر کاروبار میں ایسا ہوتا ہے کہ دکان دار اپنے گاہک کے ہاتھ جو چیز بیچتا ہے اس کو وہ خود کہیں سے خرید کر لاتا ہے۔ یہ خریداری خواہ ایک مرحلہ میں ہو یا کئی مرحلوں میں، اس کی ہمیشہ کئی صورتیں ہیں۔ اکثر دکان دار مشقت اور دوڑ بھاگ سے بچنے کے لئے کسی آسان یا قریبی ذریعہ سے اپنی ضرورت کا سامان حاصل کرلیتے ہیں۔ لیکن اگر دوڑ بھاگ کی جائے اور محنت سے کام لیا جائے تو وہی چیز نسبتاً کم قیمت میں حاصل کی جاسکتی ہے جس کو دوسرا شخص محنت سے بچنے کی خاطر زیادہ قیمت میں حاصل کر رہا ہے۔
عام دکان دار ہمیشہ اپنی محنت کی کمی کو گاہک کی جیب سے زیادہ وصول کرکے پورا کرنا چاہتے ہیں۔ مگر اس قسم کی تجارت کبھی آدمی کو کوڑی تک نہیں پہنچاتی۔ بہترین تجارتی گر یہ ہے کہ گاہک کو ممکن حد تک مناسب نرخ پر چیزیں فراہم کی جائیں اور گاہک کے ہاتھ تک پہنچنے سے پہلے کا جو مرحلہ ہے اس میں زیادہ سے زیادہ ’’کمائی کی کوشش کی جائے، زیادہ کمائی بازار سے کی جائے نہ کہ گاہک سے (۱۷ اگست ۱۹۸۰)