Al-Risala · May 1982 · page 34

آسانی ہمیشہ مشکلوں کے بعد آتی ہے

الرسالہ، مئی ۱۹۸۲، صفحہ ۳۴

آسانی ہمیشہ مشکلوں کے بعد آتی ہے

گرمیوں کے موسم میں گرد و غبار سے بھری ہوئی آندھی جب اٹھتی ہے تو بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ مصیبت کے سوا اور کچھ نہیں۔ مگر روس کے ماہرینِ موسمیات نے قراترم کے ریگستانوں میں تحقیقات کے بعد بتایا ہے کہ گرد بھری ہوئی آندھیاں زمین پر موسم کی سختی کو کنٹرول کرنے کا ایک قدرتی ذریعہ ہیں۔ جب آندھیاں چلتی ہیں توان کی وجہ سے گرد اٹھ کر اوپر چھا جاتی ہے اور فضا میں ایک غلاف کی صورت بنالیتی ہے ۔ اس طرح یہ آندھیاں زمین کی سطح کو گرمی کی تپش سے محفوظ رکھتی ہیں۔ روسی سائنس دانوں نے مختلف آلات اور جہازوں کا استعمال کر کے آندھیوں کی خصوصیات کا مطالعہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سخت گرمی کے دنوں میں بھی ریگستان کی تپتی ہوئی سطح اس وقت ٹھنڈی ہو جاتی ہے جب گرد سے بھری ہوئی آندھیاں چلنا شروع ہوتی ہیں۔ گرد کے یہ سایہ دار بادل محدود فضا میں بھی چھا سکتے ہیں اور کافی دور تک بھی، جیسے عرب سے جنوبی امریکہ تک اور وسط ایشیا سے بحر آرکٹک تک۔

قدرت کا نظام کچھ اس طرح بنا ہے کہ ہر مفید واقعہ کسی پُر مشقت عمل کے بعد ظہور میں آتا ہے۔ یہ ایک سبق ہے جو بتاتا ہے کہ ہم جب اپنی زندگی کے بارے میں کوئی منصوبہ بنائیں تو اس حقیقت کو بھی ضرور سامنے رکھیں کہ مطلوبہ نتیجہ کو حاصل کرنے کے لئے ہم کو جدوجہد کے پر مشقت دور سے گزرنا ہوگا۔ موجودہ دنیا کو اس کے بنانے والے نے اسی ڈھنگ پر بنایا ہے۔ اور اس سے مطابقت کر کے ہی ہم کوئی مفید نتیجہ برآمد کر سکتے ہیں۔ اگر ہم یہ چاہیں کہ ہم کو آندھی کی تکلیف نہ اٹھانی پڑے اور اس کے بغیر ہی ہمارے سروں پر ٹھنڈ ابادل سایہ کرلے تو ایسے نتیجہ کو پانے کے لئے ہمیں دوسری کائنات بنانی پڑے گی۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ اکثر حالات میں ناکامی کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ آدمی فوراً کامیابی چاہتا ہے۔ "مختصر راستہ" کا لفظ سڑکوں اور پگڈنڈیوں کی دنیا کے لئے صحیح ہے مگر زندگی کی جدوجہد میں "مختصر راستہ" کی قسم کی کوئی چیز نہیں پائی جاتی۔ سورت میں ہیرے کی ایک دکان ہے جو دوسری منزل پر ہے۔ ایک نوجوان اس دکان میں داخل ہوا۔ اس نے ایک ہیرا چرا لیا اور اس کو لے کر باہر نکل جانا چاہا۔ مگر دکان کے آدمیوں کو شبہ ہو گیا ۔ انھوں نے فوراً سیڑھی کا دروازہ بند کر دیا اور نوجوان سے پوچھ گچھ شروع کر دی ۔ نوجوان نے دیکھا کہ سیڑھی کے راستہ سے بھاگنا اس کے لئے ممکن نہیں ہے۔ وہ تیزی سے قریب کی کھڑکی میں داخل ہوا اور وہاں سے نیچے کی طرف چھلانگ لگا دی۔ بظاہر اس نے بھاگ نکلنے کے لئے چھلانگ لگائی تھی ۔ مگر دوسری منزل سے جب وہ سڑک پر گرا تو اس کو اتنی سخت چوٹ آئی کہ وہ وہیں سڑک پر گر گیا۔ (ٹائمس آف انڈیا ۲۱ جنوری ۱۹۸۰ ) — "سیڑھی" کا راستہ اگر کسی کو بند نظر آئے تو وہ "کھڑکی" سے چھلانگ لگا کر سڑک پر نہیں پہنچ سکتا۔ ایسی چھلانگ اس کو جہاں پہنچائے گی وہ قبر ہے نہ کہ سڑک — بظاہر یہ ایک احمق نوجوان کا قصہ معلوم ہوتا ہے۔ مگر بہت سے عقل مند لوگ بھی ٹھیک اسی طریقہ کو اپنی زندگی میں دہراتے ہیں اور بالآخر اسی انجام سے دوچار ہوتے ہیں جس سے مذکورہ نوجوان دوچار ہوا ۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1982 All issues

Printed page