Al-Risala · May 1982 · page 36

ایک وراثت یہ بھی ہے

الرسالہ، مئی ۱۹۸۲، صفحہ ۳۶

کچھ دنوں کے بعد رحیم بخش کو محسوس ہوا کہہ بڑے بھائی ہونے کی حیثیت سے چونکہ وہی کاروبار کے مالک ہیں اس لئے بقیہ بھائی اپنے کام کو اس دل چسپی سے نہیں کرتے جیسا کہ کوئی آدمی اس وقت کرتا ہے جب کہ وہ کام کو اپنا ذاتی کام سمجھتا ہو۔ اب رحیم بخش کے لئے دو صورتوں میں سے کسی ایک کو انتخاب کرنے کا سوال تھا۔ یا تو کاروبار کو اپنے قبضہ میں لے کر بقیہ تینوں بھائیوں کو اس سے الگ کردیں اور اس کے نتیجہ میں ہمیشہ کے لئے بھائیوں کی دشمنی خریدیں۔ دوسرے یہ کہ معاملات کو اسی طرح چلنے دیں۔ یہاں تک کہ بالآخر دہی ہو جو عام طور پر مشترک کاروبار میں ہوتا ہے۔ یعنی باہمی شکایت اور اس کے بعد تلخ یادوں کے ساتھ کاروبار کی تقسیم۔ رحیم بخش نے چند دن سوچا اور اس کے بعد سب بھائیوں کو جمع کرکے ساری بات صاف صاف ان کے سامنے رکھ دی۔ انھوں نے کہا کہ خدا کے فضل سے ابھی کوئی بات بگڑی نہیں ہے۔ بہترین بات یہ ہے کہ چاروں بھائی ایک ایک کاروبار کو لے لیں اور ہر ایک ذاتی طور پر اپنا کاروبار چلائے۔ اس طرح ہمارے والد کی روح کو سکون پہنچے گا اور مجھے یقین ہے کہ اس میں ہر ایک کے لئے زیادہ برکت ہوگی۔ تینوں بھائیوں نے کہا کہ ہم تو سراپا آپ کے احسان مند ہیں۔ اس لئے آپ جو بھی فیصلہ کر دیں وہ ہم کو منظور ہے۔ مختصر گفتگو کے بعد یہ طے ہوا کہ قرعہ اندازی کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ چنانچہ اسی وقت قرعہ کے ذریعہ ہر بھائی کو ایک ایک کاروبار دے دیا گیا۔ اب چاروں بھائی اپنے اپنے کاروبار میں لگے ہوئے ہیں۔ ہر ایک اپنے بچوں کو لے کر اپنے اپنے کام میں صبح سے شام تک محنت کرتا ہے۔ چاروں کے درمیان پہلے سے بھی زیادہ اچھے تعلقات ہیں۔ ہر ایک دوسرے کی مدد کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہتا ہے۔ چاروں نے الگ الگ اپنے مکانات بنا لئے ہیں۔ مگر رحیم بخش اب بھی اسی طرح سب کے بڑے بھائی ہیں جیسے وہ پہلے بڑے بھائی تھے۔ ایک بھائی جو بات کہ دے اس کو دوسرا بھائی کبھی نہیں ٹالتا۔ ایک گھر میں کوئی ضرورت پیش آجائے تو چاروں گھروں کی عورتیں اور بچے مل کر اس کو اس طرح کرتے ہیں جیسے وہ ہر ایک کا اپنا کام ہو۔

اکثر باپ یہ سمجھتے ہیں کہ اپنی اولاد کے لئے سب سے بڑی وراثت یہ ہے کہ وہ ان کے لئے مال اور جائداد چھوڑ کر اس دنیا سے جائیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ سب سے زیادہ خوش نصیب اولاد وہ ہے جس کے باپ نے اس کے لئے با اصول زندگی کی وراثت چھوڑی ہو۔ وہ اپنی اولاد کو یہ سبق دے کر دنیا سے گیا ہو کہ اپنی محنت پر بھروسہ کرو، لوگوں سے الجھے بغیر اپنا کام کرو۔ اپنے دائجی حق پر قناعت کرو۔ حال کے فائدوں سے زیادہ مستقبل کے امکانات پر نظر رکھو۔ خوش خیالیوں میں گم ہونے کے بجائے حقیقت پسندی کا طریقہ اختیار کرو۔ مادی وراثت سے زیادہ بڑی چیز اخلاقی وراثت ہے۔ مگر بہت کم باپ ہیں جو اس حقیقت کو جانتے ہوں۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1982 All issues

Printed page