اتنی عقل جانور کو بھی ہوتی ہے
الرسالہ، مئی ۱۹۸۲، صفحہ ۳۷
اتنی عقل جانور کو بھی ہوتی ہے
قرآن میں آدم کے دو بیٹوں کا ایک واقعہ بیان ہوا ہے۔ ایک بھائی نے غصہ میں آ کر دوسرے بھائی کو قتل کر دیا۔ یہ کسی انسان کے قتل کا پہلا واقعہ تھا۔ قاتل کی سمجھ میں نہ آیا کہ اپنے بھائی کی لاش کو کیا کرے۔ اس وقت اللہ نے ایک کوا بھیجا۔ اس نے مرے ہوئے کوے کو اس کے سامنے "دفن" کیا۔ اس نے اپنی چونچ اور پنجے سے زمین کھودی اور مردہ کوے کو اس کے اندر رکھ کر اوپر سے مٹی ڈال دی۔ یہ دیکھ کر قاتل بولا: افسوس ہے مجھ پر۔ میں اس کوے جیسا بھی نہ ہو سکا کہ اپنے بھائی کی لاش کو زمین میں چھپانے کی تدبیر کرتا (مائدہ) نسل انسانی کے ابتدائی زمانہ کا واقعہ ہے۔ اس وقت سے اب تک برابر خدا یہ کر رہا ہے کہ وہ حیوانات میں سے کسی حیوان کو "بھیج کر" ہم کو ہماری زندگی کے بارہ میں سبق دیتا ہے۔ مگر انسان مشکل ہی سے ایسا کرتا ہے کہ وہ اس قسم کے واقعات سے اپنے لئے سبق لے۔ یہاں ایک پرندے کا واقعہ نقل کیا جاتا ہے جس میں ہمارے آج کے لئے بہت بڑا سبق ہے۔
ابابیل نے چھت کی لکڑی میں گھونسلا بنایا۔ گھونسلا مٹی کا تھا۔ نر اور مادہ دونوں تھوڑی تھوڑی گیلی مٹی اپنی چونچ میں لائیں اور اس سے گھونسلے کی تعمیر کریں۔ لگاتار محنت کے بعد چند دن میں گھونسلا تیار ہو گیا۔ اب ابابیل نے اس کے اندر انڈا دے دیا۔ ایک روز ابابیل کا جوڑا گھونسلے پر بیٹھا ہوا تھا، چار انڈے اور دو ابابیلوں کا بوجھ گھونسلے کے لئے ناقابل برداشت ثابت ہوا اور وہ لکڑی سے چھوٹ کر نیچے گر پڑا۔ انڈے ٹوٹ کر برباد ہو گئے۔ اس کے بعد دیکھنے والوں نے دیکھا کہ دونوں ابابیلیں پوری چھت میں چاروں طرف اُڑ رہی ہیں۔ وہ چھت کی لکڑیوں میں اپنے اگلے گھونسلے کے لئے زیادہ محفوظ جگہ تلاش کر رہی تھیں۔ بالآخر انہوں نے اپنے لئے ایک ایسی جگہ پالی جو غیر ہموار ہونے کی وجہ سے گھونسلے کو زیادہ سنبھال سکتی تھی۔
پہلی بار ابابیلوں نے خالی مٹی کا گھونسلا بنایا تھا۔ اب دوسری بار انہوں نے جو مٹی لانی شروع کی اس میں گھاس ملی ہوئی تھی ۔ پہلے تجربہ کے بعد انہوں نے صاف گارے کو ناکافی پایا تو انہوں نے گھاس ملے ہوئے گارے سے گھونسلا بنانا شروع کیا ۔ گویا پہلے اگر خالی مٹی تھی تو اب آہن بستہ (Reinforced) مٹی گھونسلے کے لئے منتخب کی گئی۔ نتیجہ ظاہر ہے۔ دوسرا گھونسلا زیادہ مضبوط اور جما ہوا تھا۔ وہ اپنی جگہ پر قائم ہو گیا اور اس میں جو انڈے دئے گئے وہ محفوظ رہے یہاں تک کہ ان میں بچے نکل آئے۔ بچے اپنی ماں کے ساتھ اُڑ کر فضا میں غائب ہو گئے۔ یہ واقعہ خورشید احمد بسمل صاحب (پیدائش ۱۹۴۷ء) کے اپنے مکان کا ہے جو تھنہ منڈی (راجوری) کے رہنے والے ہیں۔ انہوں نے ۱۹ ستمبر ۱۹۷۹ء کو اپنا مذکورہ کمرہ دکھایا اور مجھ سے یہ واقعہ بیان کیا ۔ جانور کی کوشش اگر پہلی بار ناکام ہو جائے تو دوسری کوشش سے پہلے وہ معلوم کرتا ہے کہ اس کے عمل میں کون سی کمی تھی جس نے اس کے منصوبہ کو ناکام بنا دیا۔ اور پھر زیادہ کامل منصوبہ کے تحت دوسری تعمیر کرتا ہے۔ مگر ہمارا " آشیانہ “ گرتا رہتا ہے اور کبھی ہم کو احساس نہیں ہوتا کہ اپنی کمی کو معلوم کر کے زیادہ مستحکم تعمیر کا منصوبہ بنائیں