Al-Risala · May 1982 · page 43

اس کو اسکول سے خارج کردیا گیا تھا

الرسالہ، مئی ۱۹۸۲، صفحہ ۴۳

اس کو اسکول سے خارج کردیا گیا تھا

پروفیسر البرٹ آئن سٹائن (۱۹۵۵-۱۸۷۹) نے ۲۰ ویں صدی کی سائنس میں عظیم انقلاب برپا کیا۔ مگر اس کی زندگی کا آغاز نہایت معمولی تھا۔ تین سال کی عمر تک وہ بولنا شروع نہ کر سکا۔ بظاہر وہ ایک معمولی باپ کا معمولی بچہ تھا۔ نو سال کی عمر تک وہ بالکل عام بچہ دکھائی دیتا تھا۔ اسکول کی تعلیم کے زمانہ میں ایک بار وہ اسکول سے خارج کر دیا گیا۔ کیوں کہ اس کے استادوں کا خیال تھا کہ اپنی تعلیمی نااہلی کی وجہ سے وہ دوسرے طالب علموں پر برا اثر ڈالتا ہے۔ زیورک کے پائی ٹیکنیک میں اس کو پہلی بار داخلہ نہ مل سکا کیوں کہ آزمائشی امتحان میں اس کے نمبر بہت کم تھے۔ چنانچہ اس نے مزید تیاری کرکے اگلے سال داخلہ لیا۔ اس کے ایک استاد نے اس کے بارے میں کہا:

Albert was a lazy dog.

البرٹ ایک سست کتا تھا۔ ۲۰ سال کی عمر تک البرٹ آئن سٹائن میں کوئی غیر معمولی آثار نظر نہ آتے تھے۔ مگر اس کے بعد اس نے محنت شروع کی تو وہ اس بلندی تک پہنچا جو موجودہ زمانہ میں بمشکل کسی دوسرے سائنس داں کو حاصل ہوئی ۔ اسی بنا پر اس کے ایک سوانح نگار نے لکھا ہے :

We could take heart that it is not necessary to be a good student to become Einstein. ہم کو جاننا چاہئے کہ آئن سٹائن بننے کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ آدمی طالب علمی کے زمانہ میں ممتاز رہا ہو۔ آئن سٹائن نے اپنی پہلی سائنسی کتاب اس وقت شائع کی جب کہ اس کی عمر ۲۶ سال تھی۔ اس کے بعد سے اس کی شہرت بڑھتی ہی چلی گئی۔ آئن سٹائن کی زندگی بالکل سادہ تھی۔ وہ نہایت سادہ غذا کھاتا تھا ۔ وہ اکثر آدھی رات تک اپنے کام میں مشغول رہتا تھا۔ اس کو اسرائیل کی صدارت پیش کی گئی تھی مگر اس نے انکار کر دیا۔ اس کا کہنا تھا کہ سیاست انسانیت کا کینسر ہے۔ ۱۹۳۳ میں اس نے ہٹلر کے جرمنی کو چھوڑ دیا تھا۔ ہٹلر کی حکومت نے اعلان کیا کہ جو شخص آئن سٹائن کا سر کاٹ کر لائے گا اس کو ۲۰ ہزار مارک انعام دیا جائے گا۔ اس زمانہ میں یہ رقم بہت زیادہ تھی۔ مگر آئن سٹائن کی عظمت لوگوں کے دلوں پر اتنی قائم ہو چکی تھی کہ کوئی اس انعام کو حاصل کرنے کی جرات نہ کر سکا (۷ اکتوبر ۱۹۴۹)

تاریخ میں اس طرح کی بہت مثالیں ہیں جو بتاتی ہیں کہ بڑا انسان بننے کے لئے بڑا بچہ پیدا ہونا ضروری نہیں۔ معمولی حیثیت سے آغاز کر کے آدمی بڑی بڑی کامیابیاں حاصل کر سکتا ہے، بشرطیکہ وہ جدوجہد کی شرطوں کو پورا کرے، بلکہ وہ لوگ زیادہ خوش قسمت ہیں جن کو مشکل مواقع میں زندگی کا ثبوت دینا پڑے، کیونکہ مشکل حالات عمل کا محرک ہوتے ہیں۔ وہ آدمی کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتوں کو بیدار کرتے ہیں۔ نیز زندگی کے بہترین سبق ہمیشہ مشکل حالات میں ملتے ہیں۔ اعلیٰ انسان راحتوں میں نہیں بلکہ مشکلوں میں تیار ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا کی اس دنیا میں امکانات کی کوئی حد نہیں۔ یہاں کسی کو اپنے عمل کے لئے معمولی آغاز ملے تو اس کو مایوس نہیں ہونا چاہئے ۔ معمولی حالات زندگی کا سب سے مضبوط زینہ ہیں۔ تاریخ کی اکثر اعلیٰ ترین کامیابیاں معمولی حالات کے اندر ہی سے برآمد ہوئی ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1982 All issues

Printed page