Al-Risala · May 1982 · page 44

۲۵ پیسے سے

الرسالہ، مئی ۱۹۸۲، صفحہ ۴۴

۲۵ پیسے سے

شام کا وقت تھا۔ بارہ سال کا بچہ اپنے گھر میں داخل ہوا، اس کو بھوک لگ رہی تھی۔ وہ اس امید میں تیز تیز چل کر آ رہا تھا کہ گھر پہنچ کر کھانا کھاؤں گا اور پیٹ کی آگ بجھاؤں گا۔ مگر جب اس نے اپنی ماں سے کھانا مانگا تو جواب ملا "اس وقت گھر میں کھانے کے لئے کچھ نہیں ہے"۔ بچہ کا باپ ایک غریب آدمی تھا۔ وہ محنت کر کے معمولی کمائی کرتا تھا۔ روزانہ کمانا اور روزانہ دکان سے سامان لاکر پیٹ بھرنا یہ اس کی زندگی تھی تاہم ایسا بھی ہوتا کہ کسی دن کوئی کمائی نہ ہوتی اور باپ خالی ہاتھ گھر واپس آتا۔ یہ ان کے لئے فاقہ کا دن ہوتا تھا۔ اس خاندان کی معاشیات کا خلاصہ ایک لفظ میں یہ تھا: "کام مل گیا تو روزی، کام نہیں ملا تو روزہ" ماں کا جواب سن کر بچہ کو بڑا صدمہ ہوا "مجھے بھوک لگ رہی ہے اور میرے گھر میں کھانے کو کچھ نہیں"، وہ چپ ہو کر دیر تک سوچتا رہا۔ اس کے بعد بولا "کیا تمہارے پاس ۲۵ پیسے بھی نہیں ہیں"، ماں نے بتایا کہ ۲۵ پیسے اس کے پاس موجود ہیں " اچھا تو لاؤ ۲۵ پیسے مجھے دو"، بچے نے کہا۔ اس نے اپنی ماں سے ۲۵ پیسے لئے۔ اس کے بعد ایک بالٹی میں پانی بھرا۔ دو گلاس لئے۔ ۲۵ پیسے کا برف لے کر بالٹی میں ڈالا اور سیدھا سینما ہاؤس پہنچا۔ یہ گرمی کا زمانہ تھا جب کہ ہر آدمی پانی پینے کے لئے بے تاب رہتا ہے۔ وہاں اس نے آواز لگا کر " ٹھنڈا پانی" بیچنا شروع کیا۔ اس کا پانی تیزی سے بکنے لگا۔ کئی لوگوں نے بچے سمجھ کر زیادہ پیسے دئے ۔ آخر میں جب وہ خالی بالٹی میں گلاس ڈال کر واپس گھر پہنچا تو اس کے پاس پندرہ روپے ہو چکے تھے۔ اب بچہ روزانہ ایسا ہی کرنے لگا۔ دن کو وہ اسکول میں محنت سے پڑھتا اور شام کو پانی یا اور کوئی چیز بیچ کر کمائی کرتا۔ اسی طرح وہ دس سال تک کرتا رہا، ایک طرف وہ گھر کا ضروری کام چلاتا رہا دوسری طرف اپنی تعلیم کو مکمل کرتا رہا۔ آج یہ حال ہے کہ اس لڑکے نے تعلیم پوری کر کے ملازمت کرلی ہے ۔ اس کو تنخواہ سے ساڑھے سات سو روپے مہینہ مل جاتے ہیں۔ اسی کے ساتھ "شام کا کاروبار" بھی وہ بدستور جاری رکھے ہوئے ہے۔ اپنے چھوٹے سے خاندان کے ساتھ اس کی زندگی بڑی عافیت سے گزر رہی ہے۔ اس کی محنت کی کمائی میں اللہ نے اتنی برکت دی کہ اپنا آبائی ٹوٹا پھوٹا مکان اس نے از سر نو بنوالیا۔ سارے محلہ والے اس کی عزت کرتے ہیں ماں باپ کی دعائیں ہر وقت اس کو مل رہی ہیں۔

مشکل حالات آدمی کے لئے ترقی کا زینہ بن سکتے ہیں بشرطیکہ مشکل حالات آدمی کو پست ہمت نہ کریں بلکہ اس کے اندر نیا عزم پیدا کرنے کا ذریعہ بن جائیں۔ زندگی میں اصل اہمیت ہمیشہ صحیح آغاز کی ہوتی ہے۔ اگر آدمی اتنے پیچھے سے اپنا سفر شروع کرنے پر راضی ہو جائے جہاں سے ہر قدم اٹھانا آگے بڑھنا ہو تو کوئی بھی چیز اس کو کامیابی تک پہنچنے سے روک نہیں سکتی۔ "۲۵ پیسے" سے سفر شروع کیجئے ۔ کیوں کہ "۲۵ پیسے" سے سفر شروع کرنا ہر ایک کے لئے ممکن ہے۔ اور جو سفر "۲۵ پیسے" سے شروع کیا جائے وہ ہمیشہ کامیاب رہتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1982 All issues

Printed page