Al-Risala · June 1982 · page 17

حادثہ سے بچیے

الرسالہ، جون ۱۹۸۲، صفحہ ۱۷

حادثہ سے بچیے

آدمی بے شمار کوششوں کے بعد ایک قابل اعتماد معاشی زندگی حاصل کرتا ہے ۔ وہ اپنے حوصلوں کو ایک دل پسند مکان کی صورت میں بنا کر خوش ہوتا ہے۔ وہ اپنے لئے کامیابی اور ترقی کا مینار کھڑا کرتا ہے۔ مگر عین اس وقت اس کی موت آ جاتی ہے۔ وہ اپنے گھر کو سونا چھوڑ کر قبر میں لیٹ جاتا ہے۔ اس کا چکنا جسم مٹی اور کیڑے کی نذر ہو جاتا ہے ۔ اس کی کوششوں کا حاصل اس سے اس طرح جدا ہو جاتا ہے جیسے آدمی اور اس کے درمیان کبھی کوئی تعلق ہی نہ تھا۔

کوٹھی کا خواب دیکھنے والا مجبور کر دیا جاتا ہے کہ وہ قبر میں داخل ہو، وہ قبر کے راستہ سے گزر کر حشر کے میدان میں پہنچ جائے ۔ یہ دوسری دنیا اس کی آرزوؤں کی دنیا سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔ یہاں وہ اتنا مفلس ہوتا ہے کہ اس کے پاس کپڑا بھی نہیں ہوتا جس سے وہ اپنے جسم کو چھپائے۔ اس کی ساری کمائی اس سے جدا ہو جاتی ہے۔ اس کے ساتھی اس سے بچھڑ جاتے ہیں۔ اس کا زور اس سے رخصت ہو جاتا ہے ۔ ان چیزوں میں سے کوئی چیز وہاں اس کا ساتھ دینے کے لئے موجود نہیں ہوتی جن کے بل پر وہ دنیا میں گھمنڈ کر رہا تھا۔

آہ وہ سفر بھی کیسا عجیب ہے جو عین منزل کے قریب پہنچ کر حادثہ کا شکار ہو جائے۔ وہ مسافر بھی کیسا عجیب مسافر ہے جو یہ سمجھ کر آگے بڑھ رہا ہو کہ وہ منزل کی طرف جا رہا ہے مگر جب منزل آئے تو اس کو معلوم ہو کہ وہ صرف بھٹک رہا تھا، وہ الٹی سمت میں اپنی بھاگ دوڑ جاری کئے ہوئے تھا نہ کہ صحیح سمت میں۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1982 All issues

Printed page