آفاقی دین
الرسالہ، جون ۱۹۸۲، صفحہ ۱۸
آفاقی دین
کائنات کا دین اللہ کی اطاعت ہے۔ یہاں کی ہر چیز اللہ کے مقرر کئے ہوئے ضابطہ پر چل رہی ہے۔ درخت اوپر کھڑا ہوتا ہے مگر وہ اپنا سایہ نیچے زمین پر بچھا دیتا ہے۔ ہوائیں چلتی ہیں مگر وہ کسی سے ٹکراؤ نہیں کرتیں۔ سورج اپنی روشنی بکھیرتا ہے مگر وہ چھوٹے بڑے میں کوئی فرق نہیں کرتا۔ بادل بارش برساتے ہیں مگر وہ اپنے اور غیر میں تمیز نہیں کرتے۔ چڑیاں اور چیونٹیاں اپنے اپنے رزق کی تلاش میں مصروف ہوتی ہیں مگر وہ ایک دوسرے کا حصہ نہیں چھینتیں۔
یہ کائنات کے لئے خدا کا دین ہے اور اسی دین پر انسان کو بھی رہنا ہے۔ اللہ کے محبوب بندے وہ ہیں جو دنیا میں درخت کے سایہ کی طرح متواضع بن کر رہیں۔ جو دوسروں کے درمیان سے اس طرح گزریں جیسے ہوا کے لطیف جھونکے لوگوں کے بیچ سے گزر جاتے ہیں۔ جن کا فیض اور جن کی مہربانیاں بارش کی طرح ہر ایک کے لئے عام ہوں۔ جو دریا کے پانی کی طرح دوسروں کے لئے سیرابی بن جائیں۔ جنہوں نے سورج کی شعاعوں کی طرح ہر ایک کو اجالے کا تحفہ دیا۔ جنہوں نے اپنی سرگرمیوں کے دوران اس بات کی پوری احتیاط کی کہ ان سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے۔
جنت ایسی ہی پاک روحوں کی آبادی ہے۔ جنت وہ نفیس مقام ہے جہاں آدمی اپنے پڑوسی سے پھولوں کی خوشبو جیسے سلوک کا تجربہ کرے گا اور چڑیوں کے چہچہے جیسے میٹھے بول سنے گا۔ جہاں ایک کا دوسرے سے ملنا لطیف ہواؤں سے ملنے کی طرح ہوگا کیسی عجیب ہوگی جنت اور کیسا عجیب ہوگا جنت کا پڑوس۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1982 All issues