Al-Risala · June 1982 · page 22

صبر کا سفر

الرسالہ، جون ۱۹۸۲، صفحہ ۲۲

صبر کا سفر

خدا کا محبوب بندہ وہ ہے جو اپنی خود پسندی کو خدا پسندی میں گم کر دے۔ جو اپنی بات کے مقابلہ میں حق کی بات کو اختیار کر لے۔ جو دنیا کی عزت کے مقابلہ میں آخرت کی عزت کو اہمیت دینے لگے۔ لوگوں کی طرف سے خواہ کتنی ہی تلخیاں پیش آئیں مگر وہ اپنی طرف سے جوابی کارروائی نہ کرلے۔ اسی کا نام صبر ہے۔ اس میں شک نہیں کہ یہ بے حد مشکل راستہ ہے مگر اس میں بھی شک نہیں کہ یہی وہ راستہ ہے جو کسی کو جنت کی طرف لے جانے والا ہے۔ جنت صبر کرنے والوں کو ملتی ہے اور صبر کرنے والا وہ ہے جو اللہ کی خاطر اپنے آپ کو ہر محرومی پر راضی کرلے۔

امتحان کی اس دنیا میں تلخیوں اور ناخوش گواریوں کے بغیر چارہ نہیں۔ جو شخص جنت کا مسافر بننا چاہے اس کو جان لینا چاہئے کہ وہ ایک ایسے راستہ پر چلنے کا ارادہ کر رہا ہے جس میں لوگوں کی طرف سے کڑوی باتیں پیش آئیں گی۔ جس میں لمبے انتظار کی مشقت برداشت کرنی ہوناگی۔ جس میں مخالفین کی طرف سے طرح طرح کی دل آزاریاں ہوں گی۔ ان مواقع پر حق کا مسافر اگر صبر کو کھو دے، اگر وہ بے برداشت ہو جائے تو وہ درمیان ہی میں اپنے راستہ کو کھوٹا کرے گا، وہ جنت کی منزل تک نہ پہنچ سکے گا۔

جنت کا سفر تمام کا تمام صبر کا سفر ہے۔ جنت میں وہی شخص پہنچے گا جو صبر کی تلخیوں کو سہنے کے لئے تیار ہو، جو جذبات کی پامالی پر بھی بے ہمت ہو نہ جانے، جو نفس کی ہر چوٹ کو اپنے سینہ کی ویرانیوں میں چھپا لے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1982 All issues

Printed page