خدا کا درخت
الرسالہ، جون ۱۹۸۲، صفحہ ۲۳
خدا کا درخت
درخت کیا ہے، ایک بیج کی اس صلاحیت کا ظہور کہ وہ مٹی اور پانی سے اپنا رزق لے کر اپنے آپ کو تنہ اور شاخ اور پتی اور پھول کے اس مجموعہ کی صورت دے سکے جس سے زیادہ خوش منظر مجموعہ اس دنیا میں اور کوئی نہیں۔
انسان کی مثال بھی کچھ اسی قسم کی ہے۔ وہ اس دنیا میں ایک بیج کی مانند ڈالا گیا ہے۔ اس کو اپنی کوششوں سے درخت بننا ہے۔ خدا کی اس دنیا میں اس کے لئے رزق کے بے پناہ ربانی مواقع رکھ دیے گئے ہیں۔ وہ اس دنیا سے اپنا رزق لے کر اپنے لئے ایک ابدی مستقبل کی تعمیر کر سکتا ہے جو اگلی زندگی میں جنت کے ہرے بھرے باغوں کی شکل میں اس کی طرف لوٹے اور اس کے لئے لازوال خوشی کا باعث ہو۔
اس کے برعکس جو لوگ ان مواقع سے اپنا ربانی حصہ پانے میں ناکام رہیں ان کی مثال اس بیج کی سی ہے جو کسی پتھر پر پڑ گیا ہو یا جس نے کسی ناموافق زمین پر جگہ پائی ہو۔ ایسا بیج کبھی لہلہاتے ہوئے درخت کی صورت اختیار نہیں کرتا۔ موجودہ دنیا میں جس نے اپنی تعمیر کے امکانات سے فائدہ نہیں اٹھایا وہ گویا ایک ایسا بیج ہے جس کی کوتاہیوں نے اس کو درخت نہیں بنایا۔ ایسا شخص اگلی طویل تر زندگی میں ابدی ناکامی سے دوچار ہوگا۔ وہ آخرت کی دنیا میں ایک ایسی زندگی کا وارث ہو گا جو ہر قسم کی شادابی سے مکمل طور پر محروم ہو۔
جنتی انسان گویا ایک بہترین درخت ہے جو دنیا میں اگتا ہے اور پھر آخرت میں لے جا کر خدا کے ہرے بھرے باغ میں لگا دیا جاتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1982 All issues