شکر کا جذبہ
الرسالہ، جون ۱۹۸۲، صفحہ ۲۷
شکر کا جذبہ
آدمی ملے ہوئے پر مطمئن نہیں ہوتا اور جو کچھ نہیں ملا ہے اس کے پیچھے دوڑتا ہے۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ ہر آدمی غیر مطمئن زندگی گزارتا ہے۔ ہر شخص کو خدا نے کوئی نہ کوئی نعمت دی ہے۔ مگر آدمی کا حال یہ ہے کہ جو نعمت نہیں ملی اس کی طرف متوجہ رہتا ہے اور جو نعمت ملی ہوئی ہے اس کو حقیر سمجھتا ہے۔ ایسے آدمی کے اندر اپنے خدا کے لئے شکر کا جذبہ نہیں ابھرتا۔ وہ اس قیمتی کیفیت سے محروم رہ جاتا ہے جو جنت کا مستحق بننے کے لئے سب سے زیادہ ضروری ہے۔
موجودہ دنیا کو خدا نے اس طرح بنایا ہے کہ یہاں مکمل راحت کسی کے لئے نہیں۔ اگر سرد علاقہ کے مسائل ہیں تو گرم علاقہ کے بھی مسائل ہیں۔ اگر کم آمدنی والے کی زحمتیں ہیں تو زیادہ آمدنی والے کی بھی زحمتیں ہیں۔ اگر بے زور کچھ مشکلوں سے دوچار رہے توان کی بھی مشکلیں ہیں جن کو زور وقوت حاصل ہے۔ امتحان کی اس دنیا میں آدمی کو مسائل سے فرصت نہیں۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ جن مسائل کے درمیان ہے ان کو گوارا کرتے ہوئے اپنا سفر جاری رکھے ۔ اس کی تو جہات کا مرکز خدا کی رضا ہو نہ کہ مشکلات سے خالی زندگی حاصل کرنا، کیونکہ وہ تو آخرت سے پہلے ممکن نہیں۔
جو شخص آخرت کی جنت کا مالک بننا چاہتا ہو اس کو سب سے بڑا تحفہ جو اپنے رب کی خدمت میں پیش کرنا ہے وہ شکر ہے، اور شکر کا جذبہ اس کے بغیر پیدا نہیں ہو سکتا کہ آدمی مشکلات و مسائل سے اوپر اٹھ کر سوچنے کی نظر پیدا کرلے۔ جنت کی قیمت شکر ہے اور جنت اسی کو ملے گی جو اس کی قیمت ادا کرے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1982 All issues