اللہ والے
الرسالہ، جون ۱۹۸۲، صفحہ ۲۸
اللہ والے
اکثر لوگوں کا حال یہ ہے کہ عام حالات میں وہ خدا پرست نظر آتے ہیں۔ مگر جب کوئی غیر معمولی حالت پیش آئے تو اچانک وہ دوسری قسم کے انسان بن جاتے ہیں۔ کبھی محبت یا نفرت کا جذبہ، کبھی عزت و وقار کا سوال ان کے اوپر اس طرح چھا جاتا ہے کہ ان کی خدا پرستی اس کے نیچے دب کر رہ جاتی ہے۔ معمول کے حالات میں دینی زندگی گزارنے والا آدمی غیر معمولی حالات میں وہی سب کچھ کر گزرتا ہے جو غافل اور بے دین لوگ عام حالات میں کرتے ہیں۔
مگر حقیقی خدا پرست وہ ہے جو نہ صرف عام حالات میں اللہ سے ڈرے بلکہ غیر معمولی حالات میں بھی وہ اللہ سے ڈرتا ہو۔ کسی کی محبت اس کو حد سے نکلنے پر اکسائے تو وہ حد سے نکلنے پر تیار نہ ہو۔ کسی کے خلاف نفرت اس کو بے انصافی کے راستہ پر لے جانا چاہے تو وہ اس کے لئے راضی نہ ہو۔ ذاتی عزت و وقار کا سوال اس کو حق کے اعتراف سے روکنے تو وہ اس کو روکے میں کامیاب نہ ہوسکے۔
سچا خدا پرست آدمی اپنی تمام خامیوں سے آگاہ ہو کر اپنی اصلاح کرتا رہتا ہے۔ اس کا مسلسل احتساب اس کو ایسے مقام پر پہنچا دیتا ہے جہاں وہ اپنے آپ کو بے لاگ انداز سے دیکھ سکے۔ وہ اپنے آپ کو اس حقیقی نظر سے دیکھے جس نظر سے اس کا خدا اس کو دیکھ رہا ہے۔
یہی وہ لوگ ہیں جو فیصلہ کے دن خدا کی ان جنتوں میں داخل کئے جائیں گے جہاں نہ کوئی تکلیف ہے اور نہ کسی قسم کا اندیشہ۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1982 All issues