Al-Risala · June 1982 · page 31

عبدیت کا مقام

الرسالہ، جون ۱۹۸۲، صفحہ ۳۱

عبدیت کا مقام

بندہ جب تواضع کی حالت میں ہوتا ہے تو وہ خدا کے قریب ترین ہوتا ہے ۔ کیونکہ خدا کے دربار میں کسی بندہ کے لئے جو سب سے قریبی نشست ہے وہ تواضع ہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تواضع اگر نمائشی نہ ہو بلکہ حقیقی ہو تو وہ آدمی کے لئے سب سے لذیذ چیز ہوتی ہے، کیونکہ خدا کی اس دنیا میں وہ اپنی اصل حیثیت کا اعتراف ہوتا ہے، وہ خدا کے سب سے قریب پہنچ جانے کے ہم معنی ہے۔

جس آدمی کو عبدیت کے مقام کی خبر نہ ہو، عبدیت اس کے لئے لذیذ چیز نہیں بن سکتی۔ جو شخص امتیاز میں جیتا ہو وہ مساوات کی لذت کو کس طرح پائے گا۔ جو اپنی انا میں گم ہو وہ خدا کی کبریائی کے اعتراف کا مزہ کیسے چکھے گا۔ جو دوسروں کو غلط ثابت کر کے خوش ہو رہا ہو اس کو اپنی غلطی جاننے اور ماننے کی خوشی کیسے حاصل ہوگی۔ جو اپنے کو ایک پیمانہ سے ناپے اور دوسروں کو دوسرے پیمانہ سے ناپے وہ کیوں کر جانے گا کہ اپنے لئے اور دوسروں کے لئے ایک پیمانہ رکھنا اتنی بڑی دولت ہے کہ دنیا کی تمام دولتیں اس پر قربان کی جاسکتی ہیں۔

جنتی انسان وہ ہے جس کے لئے جنتی عمل دنیا میں سب سے بڑی لذت بن جائے، عبادت میں بھی اور دوسرے معاملات میں بھی۔ حسد کے جذبات کو کچلنا، انتقام کی آگ کو بجھانا، ،گر وہی عصبیت سے اپنے کو اوپر اٹھانا، اختلاف کے باوجود انصاف کرنا، خوشامد کے بجائے حق کی بنیاد پر انسان کی قدر کرنا، یہ سب چیزیں اس کے لئے اس طرح لذیذ بن جائیں کہ ان کو چھوڑنا اس کے لئے ممکن نہ رہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1982 All issues

Printed page