درخت کا سبق
الرسالہ، جون ۱۹۸۲، صفحہ ۳۲
درخت کا سبق
درخت کو دیکھئے ۔ اس کا تنہ کس قدر سخت اور طاقت ورہے۔ مگر اس کی پتی، اس کا پھول اور اس کے پھل اتنا ہی زیادہ نازک اور کمزور ہیں۔ ایک شخص جب پتیوں کے حسن، پھولوں کی رنگ کاری اور پھلوں کی لطافت پر غور کرتا ہے تو اس کو محسوس ہوتا ہے کہ درخت کے یہ نرم و نازک حصے اس کے مضبوط حصوں سے زیادہ قدرت کی توجہ کے مستحق رہے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تنہ اور شاخیں اس لئے تھیں کہ وہ تخلیق کے اس نرم و نازک شاہکار کو وجود میں لانے کا ذریعہ بنیں جن کو پتی اور پھول اور پھل کہا جاتا ہے۔ یہ خدا کی طرف سے ایک خاموش اشارہ ہے جو بتاتا ہے کہ انسان سے اس کے خالق کو کیا مطلوب ہے۔ زندگی کے درخت کو حسین پھولوں کے انجام تک پہنچانے کے لئے آدمی کو کیا کرنا چاہئے۔ وہ یہ ہے کہ آدمی طاقت سے زیادہ معنویت کا دلدادہ ہو۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے جنت کے دروازے کھولے جائیں گے۔
انسان پتھروں کے آگے جھکتا ہے اور سچائی کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ لوگ طاقتور تنوں پر اپنے حسن سلوک کا ثبوت دے رہے ہیں حالانکہ ان کا خدا ان سے پھولوں اور پتیوں کی سطح پر حسن سلوک کا نذرانہ مانگ رہا ہے۔ لوگ بڑوں کا استقبال کر کے اپنی شرافت اور انسانیت کا مظاہرہ کر رہے ہیں ۔ حالانکہ خدا جہاں ان کی شرافت اور انسانیت کو دیکھنے کا منتظر ہے وہ اس کے وہ بندے ہیں جن کو چھوٹا سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ لوگ شہرت کے مواقع پر پیسہ دے کر فیاضی کا ٹائٹل لے رہے ہیں حالانکہ خدا کے یہاں فیاضی کا ٹائٹل اس کو ملتا ہے جو ایسے مواقع پر پیسہ دے جہاں جیب خالی کرکے بھی شہرت اور عزت حاصل نہیں ہوتی۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1982 All issues