آخرت میں جینے والے
الرسالہ، جون ۱۹۸۲، صفحہ ۳۴
آخرت میں جینے والے
جنت اس کے لئے ہے جو جنت کا طالب ہو اور جنت کا طالب وہ ہے جس کے لئے جنت کے مقابلہ میں ہر دوسری چیز بے قیمت ہو جائے۔ جو شخص حقیقی معنوں میں جنت کا طالب ہو اس کی نگاہ میں دنیا کی تمام چیزیں حقیر بن جاتی ہیں۔ اخروی چیزوں کی اہمیت کا احساس دنیوی چیزوں کو اس کی نظر میں غیر اہم بنا دیتا ہے۔
جب آدمی کا ذہن آخرت کی باتیں سوچنے میں اتنا گم ہو کہ وہ دنیا کی باتیں بھولنے لگے۔ جب آخرت کا غم اس کے اوپر اس طرح چھا جائے کہ دنیا کے غم اس کو یاد نہ آئیں ۔ جب آنے والے مستقل آرام و تکلیف مسئلہ اس کو اتنا فکر مند بنا دے کہ عارضی آرام و تکلیف کے مسئلے اس کے لئے بے حقیقت ہو جائیں۔ جب کل کی زندگی اس کو اس طرح اپنی طرف کھینچ لے کہ آج کی زندگی کے بارے میں وہ لوگوں کو غافل نظر آنے لگے۔ جب بلند تر حقیقتوں کی طرف متوجہ ہونے کی وجہ سے وہ دنیا میں اس طرح رہنے لگے گویا وہ دنیا میں نہیں ہے۔ جب وہ دنیا کا کوئی آرام دیکھے تو یہ سوچ کر رو پڑے کہ معلوم نہیں آخرت میں کیا ہونے والا ہے۔ اور جب کوئی تکلیف اس کو ستائے تو اس کی زبان سے نکلے کہ خدایا، دنیا کی معمولی تکلیف تو برداشت نہیں ہوتی پھر آخرت کی تکلیف کس طرح برداشت ہوگی۔ جب دنیا کی لذتیں اس کو تسکین نہ دے سکیں اور دنیا کی مصیبتیں اس کی نگاہ میں حقیر بن جائیں۔
جن لوگوں کا یہ حال ہو جائے وہی وہ لوگ ہیں جو آخرت کے ماننے والے بنے۔ انھیں خوش نصیب روحوں کے لئے آخرت میں جنت کے دروازے کھولے جائیں گے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1982 All issues