جنت کی وراثت
الرسالہ، جون ۱۹۸۲، صفحہ ۳۳
جنت کی وراثت
مومن خدا کی اس دنیا میں گویا ایک تناور درخت ہے۔ ایک شخص جب مومن بنتا ہے تو ساری کائنات اس کو رزق پہنچانے کے لیے مستعد ہو جاتی ہے۔ وہ ایک شاندار درخت کی مانند بڑھنا شروع ہوتا ہے ۔ زمین کے اندر بھی وہ اپنی جڑیں پھیلاتا ہے اور آسمان تک بھی اس کی شادابیاں پہنچتی ہیں۔ خدا کی مدد ہر مرحلہ میں اس کے ساتھ ہوتی ہے۔ وہ ہر موقع پر اپنی بہار دکھاتا ہے۔ اس کی کامیابیاں دنیا کی زندگی سے لے کر آخرت کی زندگی تک چلی جاتی ہیں۔
اس کے برعکس غیر مومن خدا کی اس زمین پر جھاڑ جھنکار کی طرح ہے، وہ غیر مطلوب پودے کے طور پر بس اوپر اوپر اگ آتا ہے۔ خدا کی مدد اس کے ساتھ نہیں ہوتی۔ اس لیے نہ دنیا میں اس کو جھاڑ حاصل ہوتا اور نہ آخرت میں وہ کوئی پھل دیتا۔ وہ یہاں بھی محروم رہتا ہے اور وہاں بھی۔
غیر مومن کو موجودہ دنیا میں جو مواقع ملتے ہیں وہ خدا کے قانون مہلت کی بنا پر ہیں۔ امتحان کی مصلحت کے تحت اس کو وقتی طور پر زمین کی سطح پر اگنے اور بڑھنے کا موقع مل جاتا ہے۔ مگر امتحان کی مدت ختم ہوتے ہی اس کو زمین سے اکھاڑ دیا جائے گا۔ اس کے بعد اس کو آگ کی دنیا میں پھینک دیا جائے گا جہاں وہ ابدی طور پر جہنم میں جلتا رہے۔ اور خدا کی سر سبز و شاداب دنیا اپنی جنتی فضاؤں کے ساتھ صرف ان لوگوں کی وراثت میں دے دی جائے گی جو موت سے پہلے کی زندگی میں سچے ربانی انسان ثابت ہوئے ہوں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1982 All issues