جنتی اعمال
الرسالہ، جون ۱۹۸۲، صفحہ ۳۹
جنتی اعمال
آخرت میں جنت کی لذتیں اس شخص کو ملیں گی جس کے لئے جنت والے اعمال اسی دنیا میں لذیذین گئے ہوں۔ جب آدمی کا حال یہ ہو جائے کہ وہ دنیا کے دکھائی دینے والے سہاروں سے زیادہ خدا کے نہ دکھائی دینے والے سہارے پر بھروسہ کرنے لگے۔ دنیوی چیزوں کی محبت سے زیادہ خدا کی محبت اس کو عزیز ہو اور دنیوی چیزوں کے خوف سے زیادہ خدا کا خوف اس کے لئے اہمیت رکھتا ہو۔ رسول کے بتائے ہوئے طریقہ کو قبول کرنا اس کو ہر حال میں پسند ہو، خواہ وہ اس کے ذوق کے خلاف کیوں نہ ہو۔ وہ دنیا کی مصلحتوں کے بجائے آخرت کی مصلحتوں کو اہمیت دے۔ حق کو نظر انداز کرنے کے مقابلہ میں حق کو مان لینا اس کی نظر میں زیادہ محبوب بن جائے۔ بے فکری کے ساتھ قہقہہ لگانے سے بڑھ کر تسکین اس کے دل کو اس وقت ملتی ہو جب کہ وہ اللہ کے لئے آنسو بہا رہا ہو۔ وقار کا سوال اگر سچی بات کو قبول کرنے میں رکاوٹ بنے تو وہ اپنے وقار کو مجروح کر کے سچائی کا طریقہ اختیار کرنے پر تیار ہو جائے۔
جب اس کو کسی سے شکایت ہو جائے تو اس سے انتقام لینے کے بجائے اس کو معاف کر دینے میں اس کا دل ٹھنڈک پا تا ہو۔ حقوق کو غصب کرنے سے زیادہ اس کو یہ بات پسند ہو کہ وہ دوسروں کے حقوق ادا کرے۔ جب اس کے سینہ میں حسد اور بغض کے جذبات بھڑک اٹھیں تو ان کو ظاہر کرنے کے بجائے ان کو کچل ڈالنا اس کو زیادہ محبوب ہو۔ کسی کے خلاف بری رائے قائم کرنے سے زیادہ اس کو یہ بات پسند ہو کہ وہ اس کے بارے میں اچھی رائے قائم کرے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1982 All issues