جنت کا مسافر
الرسالہ، جون ۱۹۸۲، صفحہ ۴۰
جنت کا مسافر
خدا کا مطالبہ یہ ہے کہ بندہ اپنے تمام اثاثہ کو خدا کے حوالے کر دے۔ اس کے معاوضہ میں خدا نے آخرت میں اپنی جنت کا وعدہ کیا ہے۔
آدمی اکثراپنے آپ کو بچا رکھتا ہے اور اس کے جواب میں دشواریوں کی ایک فہرست پیش کر دیتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہی دشواریاں وہ قیمتی مواقع ہیں جن کو عذر نہ بنا کر وہ اپنے رب کو خوش کر سکتا ہے۔ آدمی جن مسائل کی بنا پر اسلام کی طرف بڑھنے سے رکتا ہے وہی دراصل اس کے لئے ترقی کے زینے ہوتے ہیں۔ وہ اس لئے نہیں ہیں کہ آدمی ان کو دیکھ کر رک جائے، وہ اس لئے ہیں تاکہ آدمی انہیں پھاند کر آگے بڑھ جائے۔ وہ ان کو خدا تک پہنچنے کا زینہ بنا لے۔
خدا کے نزدیک اس کا سب سے محبوب بندہ وہ ہے جو اپنی تمناؤں کو اس کے لئے دفن کر دے۔ جو اپنے آرام کو اس کی خاطر چھوڑ دے۔ جو اپنی مشکلات کو نظر انداز کرکے اس کی طرف بڑھ جائے۔ دنیا میں کسی کی کامیابی یہ نہیں ہے کہ وہ یہاں کچھ حاصل کرے ۔ کامیاب دراصل وہ ہے جو خدا کی راہ میں اپنا سب کچھ قربان کر دے۔ سب سے زیادہ صحت مند وہ ہے جس کی صحت خدا کی راہ میں برباد ہوگئی ہو۔ سب سے زیادہ صاحب مال وہ ہے جو خدا کی خاطر بے مال ہو جائے۔ سب سے زیادہ بلند مرتبہ وہ ہے جو خدا کے لئے بے مرتبہ ہو گیا۔ سب سے زیادہ خوش نصیب وہ شخص ہے جو بالکل لٹا ہوا اپنے رب کے پاس پہنچے، کیونکہ اس کا رب اپنی رحمتوں کو اس کے اوپر انڈیل دے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1982 All issues