Al-Risala · June 1982 · page 44

جنت کا پھول

الرسالہ، جون ۱۹۸۲، صفحہ ۴۴

جنت کا پھول

مومن جنت کا پھول ہے۔ اس کی خوشبو دنیا کی زندگی میں ربانی اخلاقیات کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے اور آخرت میں وہ مادی نعمتوں کی صورت میں ڈھل جائے گی۔ جس کا دوسرا نام جنت ہے۔

مومن وہ ہے جس کا لگاؤ آخرت کے معاملہ میں اتنا بڑھے کہ دنیا کی چیزوں کے بارہ میں وہ بے نفس ہو جائے۔ دوسروں کی طرف سے جب اس کے دل پر چوٹ لگے تو وہ اس کو برداشت کرلے۔ اس کو اپنی کمیوں کا اتنا زیادہ احساس ہو کہ دوسروں کی طرف سے کی جانے والی تنقید کو وہ برا نہ مانے۔ دوسرے اس کو بے عزت کریں تو خدا کی خاطر وہ اس کو نظر انداز کر دے۔ اس کا دل خدا کے سمندر میں نہا کر اتنا صاف ہو جائے کہ وہ دوسروں کی زیادتیوں پر ان کو معاف کر سکے اور ان کی تلخ باتوں کو بھلا دیا کرے۔ حتیٰ کہ اس کے دل کا یہ حال ہو جائے کہ تکلیف پہنچانے والوں کے لئے اس کی زبان سے دعائیں نکلنے لگیں۔

یہی وہ روح ہے جو اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہے اور یہی وہ لوگ ہیں جو آخرت میں جنت کی دنیا کے شہری بنائے جائیں گے۔ جنت کی دنیا پھولوں جیسی لطیف دنیا ہے ، صرف لطیف روحیں ایسی دنیا میں جگہ پا سکتی ہیں۔ جو لوگ اپنے آپ کو منفی جذبات اور رد عمل کی نفسیات سے اوپر نہ اٹھا سکیں وہ گویا کانٹوں کی سطح پر جی رہے ہیں۔ ایسے لوگ پھولوں کے پڑوسی کس طرح بن سکتے ہیں۔

لوگ جنت سے کتنا دور ہیں پھر بھی وہ اپنے کو جنت سے کتنا قریب سمجھتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1982 All issues

Printed page