ربانی اوصاف
الرسالہ، جون ۱۹۸۲، صفحہ ۴۵
ربانی اوصاف
جنت ایک مثالی دنیا ہے جو مخصوص خدائی اہتمام کے تحت بنائی جائے گی ۔ موجودہ دنیا دکھ اور محنت کی دنیا ہے اور موت کے بعد آنے والی دنیا خوشیوں اور لذتوں کی دنیا۔ موجودہ دنیا میں وہ انسان چنے جارہے ہیں جو آنے والی ابدی دنیا میں بسائے جانے کے قابل ہوں۔
اگلی دنیا میں عزت و مسرت کے لازوال مکانات میں بسانے کے لئے وہ لوگ مطلوب ہیں جو اخلاق خداوندی کو اپنا اخلاق بنائیں۔ اخلاق خداوندی کیا ہے ، اس کے نمونے آج کی دنیا میں انسان کے چاروں طرف پھیلا دئے گئے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے دل و دماغ میں پہاڑوں کی بلندیاں اور سمندروں کی وسعتیں لئے ہوئے ہوں ۔ جو ہواؤں کی مانند لوگوں سے ٹکرائے بغیر ان کے بیچ سے گزر جانے والے ہوں۔ جو ستاروں اور سیاروں کی طرح خاموش سفر کرنا جانتے ہوں جو سورج کی طرح اپنوں اور غیروں کے اوپر یکساں چمکنے والے ہوں۔ جو پھول کی طرح شہرت اور عزت سے بے نیاز ہو کر کھلنا جانتے ہوں ۔ جو دریا کی مانند حسد اور نفرت سے خالی ہو کر زمین کے سینہ پر بہہ رہے ہوں۔ جو درخت کی طرح ساری کائنات کو اپنے لئے ربانی غذا کا دستر خوان بنا چکے ہوں ۔ جو زمین پر پڑے ہوئے سایہ کی طرح کبر و غرور سے خالی ہو کر اپنے آپ کو اللہ کے آگے ڈال دینے والے ہوں ۔
جو لوگ آج کی دنیا میں ان ربانی خصوصیات کے حامل بنیں وہی وہ لوگ ہیں جو آنے والی جنتی دنیا کے مالک ہوں گے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1982 All issues