خدا کے لئے جھکنے والے
الرسالہ، جون ۱۹۸۲، صفحہ ۴۶
خدا کے لئے جھکنے والے
خدا کو اپنی جنت میں بسانے کے لئے وہ حقیقت پسند انسان مطلوب ہے جو خدا کو نہ دیکھتے ہوئے بھی دنیا میں اس طرح رہے جیسے کہ وہ اس کو دیکھ رہا ہے۔ خدا کی بڑائی اور اس کے کمالات، اس کے ذہن پر اس طرح چھا جائیں کہ وہ اس کو ہر وقت یاد آنے لگے ۔ اس کا دل ہر وقت خدا کی باتوں سے سرشار رہے اور اس کی پوری زندگی خدا کے گرد گھومنے لگے۔
جنت کی حسین دنیا میں رہنے کا اہل صرف وہ ہے جو خدا کو اس طرح اپنا معبود بنالے کہ وہی اس کی زندگی بن جائے۔ جو اپنے شعور کو اس حد تک ترقی دے کہ اپنے آپ کو اپنے سے الگ ہو کر دیکھنے لگے۔ جو خود مختار ہو کر بھی پابند زندگی گزارے۔ جو آزاد ہوکر بھی اپنی آزادی کو مقرر دائرہ میں استعمال کرے۔
یہ بلند نظری اور حقیقت پسندی کا وہ مقام ہے جہاں آدمی نفسیاتی پردوں سے باہر آکر سوچتا ہے۔ جہاں وہ اپنے آپ کو ذاتی نگاہ سے نہیں بلکہ حقیقتِ واقعہ کی نگاہ سے دیکھنے لگتا ہے۔ جہاں وہ مجبور نہ ہوتے ہوئے بھی ہمہ تن اپنے آپ کو اپنے آقا کے آگے جھکا دیتا ہے۔ جہاں مخالف ترغیبات کے باوجود وہ اپنے آپ کو اللہ کی حدود پر قائم رکھتا ہے۔ جہاں ڈھٹائی کے مواقع ہوتے ہوئے بھی وہ سرتاپا اپنے کو حق کے آگے ڈال دیتا ہے۔ مالک کائنات کے ظہور کے بعد لوگوں کا جو حال ہوگا وہ حال اس کا اسی وقت ہو جاتا ہے جب کہ مالک کائنات ابھی غیب کے پردہ میں چھپا ہوا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1982 All issues