Al-Risala · June 1982 · page 6

وقت کی اہمیت

الرسالہ، جون ۱۹۸۲، صفحہ ۶

پیچھے لوٹ آتا تو وہ "دسویں پاس" کی حیثیت سے بھی دنیا میں اپنی جگہ بنا سکتا تھا۔ یا دوبارہ محنت کرکے گیارہویں درجہ کے امتحان میں کامیابی حاصل کر سکتا تھا۔ مگر اس کی مایوسی کا یہ نتیجہ ہوا کہ وہ صرف اگلا کنارہ یاد رکھ سکا۔ اس کے پیچھے بھی ایک کنارہ تھا مگر وہ اس کو بھول گیا۔ اگر وہ کچھ اور نہ کرتا، صرف اپنے پیچھے کی طرف لوٹ آتا تو وہ دیکھتا کہ ایک محفوظ ساحل اس کا انتظار کر رہا ہے۔ مگر اس نے صرف اپنے آگے دیکھا، وہ اپنے پیچھے نہ دیکھ سکا، نتیجہ یہ ہوا کہ اس نے زندگی کے عین کنارے کھڑے ہو کر اپنے کو زندگی سے محروم کر لیا۔ ناکامی کے واقعات ہر آدمی کی زندگی میں پیش آتے ہیں اور یہ بالکل فطری بات ہے کہ آدمی جب ناکام ہو تو اس کے دل کو جھٹکا لگے۔ اپنی غلطیوں کا احساس کر کے اس کو سخت شرمندگی لاحق ہو۔ ناکامی کا یہ احساس اس وقت بہت مبارک ہے جب کہ وہ نئی، زیادہ صحیح جدوجہد کے لئے آدمی کو اکسائے۔ لیکن ناکامی کا احساس اگر صرف افسوس کرنے اور اپنے کو گھلانے کے ہم معنی بن جائے تو یہ ایک ناکامی کے بعد اپنے کو دوسری اور زیادہ بری ناکامی کے حوالے کرنا ہے۔ یاد رکھیے جو ناکام نہ ہو وہ ابھی زندگی میں داخل ہی نہیں ہوا۔ اور جو ناکامی سے صرف کڑھن لے کر لوٹا اس نے زندگی کو یا کر دوبارہ زندگی کو کھو دیا۔ ماہر کا یہ قول نہایت درست ہے کہ "_________ اصلاح کی تدبیر کئے بغیر نادم ہونا ایسا ہی ہے جیسے سوراخ بند کئے بغیر جہاز میں سے پانی نکالنا۔ "

وقت کی اہمیت

ایک شخص فوج میں معمولی سپاہی کی حیثیت سے بھرتی ہوا۔ اس کے بعد ترقی کرتے کرتے بڑا فوجی افسر بن گیا۔ اس فوجی افسر نے ایک بار اپنی زندگی کا تجربہ بتاتے ہوئے کہا "فوج میں میری غیر معمولی ترقی کا سبب صرف میری یہ خصوصیت تھی کہ مجھ کو اگر دس بجے ڈیوٹی پر جانا ہوتا تو میں نو بجے تیار رہتا تھا۔ " بظاہر یہ ایک چھوٹی سی بات ہے مگر یہ بہت اہم بات ہے۔ یہ تمام ترقیوں کا راز ہے۔ زندگی کے معاملات میں وقت کی بے حد اہمیت ہے۔ جو شخص وقت کا جتنا زیادہ پابند ہوگا اتنا ہی زیادہ وہ ترقی کے منازل طے کرے گا۔ اکثر ناکامیوں اور مصیبتوں سے بچنے کا واحد راز یہ ہے کہ وقت کو نہ کھویا جائے۔ کسی نے بالکل سچ کہا ہے "وقت سے پہلے اسٹیشن پہنچنے کی کوشش کرو، تمھاری گاڑی کبھی نہیں چھوٹے گی"۔ آپ کو ایک ٹرین پکڑنی ہے جو دس بج کر ۳۰ منٹ پر چھوٹتی ہے۔ آپ کے گھر سے اسٹیشن تک کا راستہ ۳۰ منٹ کا ہے۔ اب اگر آپ یہ سوچیں کہ وقت سے پہلے جانے کی کیا ضرورت۔ اور گھر سے صرف پانچ منٹ پہلے روانہ ہوں تو یہ عین ممکن ہے کہ راستہ میں کوئی غیر متوقع واقعہ پیش آ جائے جو آپ کے سفر کو ۳۰ منٹ کے بجائے ۴۰ منٹ یا ۵۰ منٹ کا بنا دے اور نتیجہ یہ ہو کہ آپ کی گاڑی چھوٹ جائے۔ آپ

‹ Previous page Next page › Contents of June 1982 All issues

Printed page