Al-Risala · June 1982 · page 5

دونوں طرف ساحل

الرسالہ، جون ۱۹۸۲، صفحہ ۵

دونوں طرف ساحل

ایک شخص کشتی پر سوار ہو کر سمندری سفر کے لئے روانہ ہو رہا تھا۔ اس کے مغربی دوست نے اس کو رخصت کرتے ہوئے کہا کہ آج تم ایک صاف سمندر میں اپنا سفر شروع کر رہے ہو۔ مگر کبھی موسم تمہارے لئے اچھا رہے گا اور کبھی خراب۔ تمہارے راستہ میں طوفان آئیں گے اور تمہیں اس کا مقابلہ کر کے آگے بڑھنا ہو گا۔ تم کبھی بے ہمت نہ ہونا۔ محفوظ ساحل تمہارے دونوں طرف تمہارا انتظار کر رہا ہے:

Safe harbour awaits you both in the end

ان چند لفظوں میں زندگی کی بہت گہری حقیقت بیان کر دی گئی ہے۔ آدمی ایک مقصد کی طرف بڑھتا ہے، مقصد کو حاصل کرتے میں اسے ناکامی ہوتی ہے۔ وہ ہمت چھوڑ بیٹھتا ہے۔ ایک ناکامی کو وہ ساری ناکامی سمجھ لیتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اب میں ہمیشہ کے لئے ختم ہو گیا۔ وہ بھول جاتا ہے کہ اگر وہ اپنے سابقہ مقام کی طرف لوٹ آئے تب بھی وہ ناکام نہیں۔ یہ اس کی ایک کامیاب حیثیت ہی تھی جس نے اسے یہ موقع دیا کہ وہ کشتی پائے اور اس پر سوار ہو کر اس کو چلاتا ہوا آگے بڑھے۔ پھر اگر وہ اپنی اس سابقہ کامیاب حیثیت کی طرف لوٹے اور اس کو دوبارہ پالے تو اس میں ناکامی کا کیا سوال۔

دریا کے دونوں طرف ساحل ہوتے ہیں۔ اگر آدمی آگے نہ بڑھ سکے تو پیچھے لوٹ کر بھی وہ ایک ساحل کو پالے گا۔ یہی معاملہ زندگی کے سفر کا بھی ہے۔ یہاں بھی سفر کے دونوں طرف ساحل ہیں، ایک مقام وہ ہے جدھر آپ بڑھنا چاہتے ہیں۔ دوسرا مقام وہ ہے جس کو چھوڑ کر آپ آگے بڑھے تھے۔ اگر آپ اگلے مقام تک نہ پہنچ سکیں تو پیچھے لوٹ آئیے۔ کیونکہ یہاں بھی ایک مقام آپ کا انتظار کر رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آدمی ہر وقت دو امکانات کے درمیان ہوتا ہے۔ مگر اکثر لوگ یہ غلطی کرنے ہیں کہ ایک امکان کو کھو کر وہ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ دوسرا امکان بھی ان سے کھویا جا چکا ہے۔

کسی کا قول ہے "جو سورج کل صبح کو نکلا تھا وہی آنے والے دن کو دوبارہ چمکنے والا ہے" یہ ایک حقیقت ہے کہ گزرے ہوئے وقت کا ماتم کرنے سے کہیں زیادہ بہتر ہے کہ آنے والے وقت کا استعمال کیا جائے مگر بہت کم لوگ ہیں جو اس حکمت کا لحاظ کرتے ہوں۔

ایک طالب علم دسویں پاس کر چکا تھا۔ اس کے بعد اس نے گیارھویں درجہ کا امتحان دیا۔ وہ اس امتحان میں فیل ہو گیا۔ اس کے بعد اس پر اتنی مایوسی چھائی کہ اس نے خود کشی کر لی۔ اس کو یاد نہ رہا کہ اگر وہ علم کی گیارھویں سیڑھی تک پہنچنے میں ناکام رہا ہے تو اس سے کیا ہوا۔ دسویں سیڑھی پر تو اب بھی اس کے پاؤں جمے ہوئے ہیں۔ اگر وہ

‹ Previous page Next page › Contents of June 1982 All issues

Printed page