Al-Risala · July 1982 · page 13

سچائی کو پانے والا

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۲، صفحہ ۱۳

انسان کا المیہ

یہ جولائی کی ایک حسین صبح تھی۔ سورج ابھی نکلا نہیں تھا مگر آسمان کی وسعتوں میں اس کی پھیلتی ہوئی روشنی بتا رہی تھی کہ وہ جلد ہی نکلنے والا ہے۔ افق پر بادل کے ٹکڑوں کے چہچہے سے پھوٹتے والی سورج کی ابتدائی شعاعیں عجیب رنگ برنگ منظر پیش کر رہی تھیں۔ درختوں کی سرسبزی، چڑیوں کے پیچھے اور صبح کی ہوا کے لطیف جھونکے ماحول کی رعنائی میں مزید اضافہ کر رہے تھے۔ میری زبان سے بے اختیار نکلا: خدا کی دنیا انتہائی حد تک با معنی ہے، مگر وہ اس وقت انتہائی حد تک بے معنی ہو جاتی ہے جب کہ اس کے ساتھ آخرت کو شامل نہ کیا جائے۔

دنیا بے حد لذیذ ہے مگر اس کی لذتیں چند لمحے سے زیادہ باقی نہیں رہتیں۔ دنیا بے پناہ حد تک حسین ہے مگر اس کو دیکھنے والی آنکھ بہت جلد بے نور ہو جاتی ہے۔ دنیا میں عزت اور خوشی حاصل کرنا انسان کو کتنا زیادہ مرغوب ہے مگر دنیا کی عزت اور خوشی آدمی ابھی پوری طرح حاصل نہیں کر پاتا کہ اس پر زوال کا قانون جاری ہو جاتا ہے۔ دنیا میں وہ سب کچھ ہے جس کو انسان چاہتا ہے مگر اس سب کچھ کو حاصل کرنا انسان کے لئے ممکن نہیں، حتیٰ کہ اس خوش قسمت انسان کے لئے بھی نہیں جو بظاہر سب کچھ حاصل کر چکا ہو۔

انسان ایک کامل وجود ہے۔ مگر اس کا المیہ یہ ہے کہ اسی کے ساتھ وہ طرح طرح کی محدودیت کا شکار ہے اور بہت سے ناموافق حالات اس کو گھیرے ہوئے ہیں، انسان کی زندگی کامل زندگی ہونے کے باوجود اس وقت تک بے معنی ہے جب تک اس کو ایک ایسی دنیا نہ ملے جو ہر قسم کی محدودیت اور ناموافق حالات سے پاک ہو۔

خدا نے یہ کامل اور ابدی دنیا جنت کی صورت میں بنائی ہے۔ مگر یہ دنیا کسی کو اپنے آپ نہیں مل سکتی۔ اس آنے والی مکمل دنیا کی قیمت موجودہ نامکمل دنیا ہے۔ جو شخص اپنی موجودہ دنیا کو آنے والی دنیا کے لئے قربان کر سکے وہی آنے والی جنتی دنیا کو پائے گا۔ جو شخص اس قربانی کے لئے تیار نہ ہو وہ بھی اگرچہ موت کے بعد ابدی دنیا میں داخل ہوگا۔ مگر اس کے لئے یہ ابدی دنیا حسرتوں اور مایوسیوں کی دنیا ہوگی نہ کہ خوشیوں اور لذتوں کی دنیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1982 All issues

Printed page