Al-Risala · July 1982 · page 14

رخ صحیح کیجئے

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۲، صفحہ ۱۴

رخ صحیح کیجئے

ایک مغربی مفکر نے کہا ہے ـــــ کامیابی کے راستہ کی اکثر رکاوٹوں کو تم نے دور کر لیا ہے اگر تم نے یہ جان لیا ہے کہ محض حرکت اور صحیح رخ پر حرکت میں کیا فرق ہے:

You've removed most of the roadblocks to success when you've learnt the difference between motion and direction. ہر سرگرمی بظاہر سرگرمی معلوم ہوتی ہے۔ آپ اپنی گاڑی مطلوبہ منزل کی سمت میں چلا رہے ہوں یا منزل کے بالکل الٹی سمت میں اپنی گاڑی دوڑا رہے ہوں ، دونوں حالتوں میں دیکھنے والوں کو گاڑی یکساں طور پر حرکت کرتی ہوئی نظر آئے گی۔ مگر دونوں میں اتنا زیادہ فرق ہے کہ ایک حرکت آپ کو ہر آن منزل سے قریب کر رہی ہوگی اور دوسری حرکت ہر آن منزل سے دور۔

انفرادی زندگی کا معاملہ ہو یا اجتماعی زندگی کا، ہمیشہ یہ ضرورت ہوتی ہے کہ حالات اور وسائل کا جائزہ لے کر اس کے مطابق صحیح رخ پر سفر شروع کیا جائے۔ ایسا سفر دیر یا سویر منزل پر پہنچ کر رہتا ہے۔ اس کے برعکس اگر الٹ ٹپ طریقہ پر ایک دوڑ جاری کر دی جائے تو ایسی دوڑ صرف نقصان اور بربادی پر ختم ہوگی۔

اکثر لوگ ایسا کرتے ہیں کہ سوچے سمجھے بغیر ایک کام شروع کر دیتے ہیں یا وقتی جذبات کے اثر سے کوئی کارروائی کرنے لگتے ہیں اور اس کے بعد جب اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا تو دوسروں کی شکایت کرتے ہیں کہ ان کے ضد اور تعصب کی وجہ سے ایسا ہوا۔ حالاں کہ اگر وہ گہرائی کے ساتھ سوچیں تو اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ انھوں نے کچھ نہ کچھ کرنے کو کرنا سمجھ لیا ۔ حالانکہ کرنا صرف وہ ہے جو درست طریقہ پر اور درست سمت میں کیا جائے نہ کہ درست اور نادرست کا لحاظ کئے بغیر بس یوں ہی ہاتھ پاؤں چلانا شروع کر دیا جائے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی اپنی ناکامی کے لئے دوسروں کو الزام دیتا ہے۔ حالاں کہ دوسروں کو اس کے خلاف جو موقع ملا وہ اسی لئے ملا کہ اس نے غلط رخ سے اپنا سفر جاری کیا تھا ، اگر اس نے صحیح رخ سے اپنا سفر شروع کیا ہوتا تو اس کی نوبت ہی نہ آتی کہ کوئی اس کے راستہ میں حائل ہو جائے۔ وہ اس کے کامیابی کے سفر کو ناکامی اور بربادی کا سفر بنا دے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1982 All issues

Printed page