Al-Risala · July 1982 · page 19

تعبر کا فرق

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۲، صفحہ ۱۹

تعبر کا فرق

"قُم" کے معنی عربی زبان میں ”اٹھو“ کے ہیں اور قم ایران کے ایک شہر کا نام بھی ہے۔ ایک پرانا لطیفہ ہے کہ شہر قم کے قاضی صاحب کو ان کے حاکم کا ایک حکم نامہ ملا جس میں عربی زبان میں یہ تحریر تھا: یا قاضی قم نقد شبتَ نقم۔ اس جملہ کا بظای مطلب یہ ہے کہ اے قم کے قاضی، اب قم بوڑھے ہوگئے اس لئے اٹھو (اپنا عہدہ چھوڑ دو) یہ حکم نامہ جب قاضی قم کو ملا تو اس نے کہا: ”قتلنی حب الامیر للقافية) امیر کی قافیہ پسندی نے مجھے مار ڈالا)

قاضی صاحب کی نظر قم پر گئی، ثبت پر نہیں گئی۔ اگر وہ شبت کے لفظ پر غور کرتے تو ان کو معلوم ہوتا کہ ان کو عہدہ قضا سے ہٹانے کی اصل وجہ ان کا بڑھاپا ہے نہ کہ تم کا قافیہ۔ امیر کو انھیں بڑھاپے کے سبب سے اس ذمہ دارانہ منصب سے ہٹا کر کسی دوسرے جواں سال آدمی کو وہاں رکھنا تھا۔ یہ محض اتفاقی بات تھی کہ وہ شہر قم کے قاضی تھے اور اس بنا پر حسن تعبیر کے لئے اس نے اپنے حکم کے لئے مذکورہ الفاظ استعمال کر لئے۔ اگر وہ قم کے بجائے کسی اور شہر کے قاضی ہوتے تب بھی وہ ی معزول کرتا۔ البتہ اس صورت میں اس کے حکم کے الفاظ دوسرے ہوتے۔

جب بھی ایک بات کہی جائے تو اس کا کوئی جز راسلی ہوتا ہے اور کوئی جزرا اتفاقی۔ کوئی چیز اصل مقصود کلام کے طور پر آتی ہے اور کوئی اتفاقاً کلام کا جز ربن جاتی ہے۔ آدمی کسی کلام کی حکمت کو اسی وقت سمجھ سکتا ہے جب کہ وہ الفاظ کے اس فرق کو ملحوظ رکھ کر کلام کا مفہوم متعین کرے۔ اس کے برعکس اگر وہ اس فرق کو ملحوظ نہ رکھے تو وہ سخت غلطی کرے گا۔ وہ لفظ ہر کلام کو سمجھتے ہوئے بھی کلام کو نہیں سمجھے گا۔ وہ نہ کہنے والے کے ساتھ انصاف کرے گا اور نہ خود اپنے ساتھ۔ مذکورہ قاضی صاحب اتنے نادان نہیں ہو سکتے کہ وہ اس راز کو نہ سمجھ سکیں۔ یہ واقعہ اگر دوسرے شخص سے متعلق ہوتا تو وہ فوراً اس کو جان لیتے۔ مگر معاملہ ان کی اپنی ذات کا تھا اس لئے وہ اس کی حقیقت تک نہ پہنچ سکے۔ جب بھی کوئی آدمی نفسیاتی پیچیدگی میں مبتلا ہو تو وہ حقیقت پسندانہ انداز میں سوچ نہیں پاتا اور اس بنا پر اصل معاملہ کو سمجھنے میں اسی طرح ناکام رہتا ہے جس طرح قاضی صاحب ناکام رہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1982 All issues

Printed page