Al-Risala · July 1982 · page 18

نادانی کی سیاست

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۲، صفحہ ۱۸

نادانی کی سیاست

پہلی جنگ عظیم (۱۹۱۴) میں ایک طرف برطانیہ اور اس کے حلیف تھے جن کو اتحادی طاقتیں (Allied Powers) کہا جاتا تھا۔ دوسری طرف جرمنی اور اس کے حلیف تھے جن کو محوری طاقتیں (Axis Powers) کہا گیا۔ اس جنگ میں ترکوں نے اتحادیوں کے خلاف جرمنی کا ساتھ دیا۔ اسی زمانہ میں لندن ٹائمس نے اپنے ایک مضمون میں ترکوں کو مشورہ دیا کہ وہ جنگ سے الگ رہیں۔ مولانا محمد علی اس جنگ میں اپنے دشمن انگریز کو ان کے مخالفوں کے ہاتھوں شکست کھاتے ہوئے دیکھنا چاہتے تھے، چنانچہ وہ لندن ٹائمس کے مشورہ کو پڑھ کر بے قابو ہو گئے۔ انھوں نے چالیس گھنٹہ کی لگا تار محنت کے بعد اپنے انگریزی اخبار کامریڈ کے لئے ایک مضمون لکھا جس کا عنوان تھا: ترکوں کا انتخاب (Choice of the Turks) مولانا محمد علی کے اس مشہور ترین مضمون میں ترکوں کو پر زور درشور دیا گیا کہ وہ جرمنی کے ساتھ ہو کر انگریزوں کے خلاف جنگ کرنے کے فیصلہ پر قائم رہیں۔ مولانا محمد علی کے نزدیک دو ممکن راستوں میں سے صحیح راستہ ترکوں کے لئے یہ تھا کہ وہ انگریزوں کے مقابلہ میں جرمنوں کے محاذ میں شامل ہو جائیں ۔ مگر جنگ کا نتیجہ مولانا محمد علی کی خواہشوں کے خلاف نکلا۔ جنگ ختم ہوئی تو معلوم ہوا کہ وہ جرمنوں کی شکست کے ساتھ ترکوں کے لئے بھی شکست کا پیغام بن کر آئی ہے۔ اس کے بعد انگریزوں نے ترکوں کے ساتھ وہی سلوک کیا جو کوئی فاتح قوم مفتوح قوم کے ساتھ کرتی ہے۔ اب مولانا محمد علی دوبارہ بے تاب ہو گئے۔ وہ مسلمانوں کا ایک وفد لے کر لندن گئے تاکہ ہندوستان کے انگریز وائسرائے لارڈ چیمسفورڈ سے ملاقات کریں۔ مگر وائسرائے نے ان سے ملاقات نہ کی اور انھیں ناکام واپس آنا پڑا۔ اس کے بعد وہ دوسرے وفد کے ساتھ ۱۹۲۰ میں دوبارہ لندن گئے اور انگریزی قوم اور انگریز حکمرانوں کو مسلمانان ہند کے " جذبات " سے آگاہ کرنے کی کوشش کی ۔ وہاں انھوں نے چند تقریریں کیں، صرف یہ سننے کے لئے کہ آپ نے جب نازک وقت میں ہمارے جذبات کا لحاظ نہ کیا تو آپ کیسے امید رکھتے ہیں کہ ہم آپ کے جذبات کا لحاظ کریں گے۔

کوئی فاتح قوم جنگ کے بعد ایسے گروہ سے رعایت نہیں کرتی جس نے جنگ کے زمانہ میں اس کے دشمنوں کا ساتھ دیا ہو۔ چنانچہ برطانیہ کی اعلی سیاسی شخصیتوں نے مولانا محمد علی سے ملاقات بھی نہ کی۔ اب فیصلہ کی طاقت اتحادیوں کی طرف جا چکی تھی ان کے نزدیک محمد علی کا کیس اب حق کا کیس نہیں تھا بلکہ مجرم کی چیخ پکار کا کیس تھا۔ انھوں نے ترکوں کی مخالفانہ کارروائی کا یہ بدلہ لیا کہ ترکی کے حصے بجرے کر کے ترکی کی عظیم خلافت کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1982 All issues

Printed page