Al-Risala · July 1982 · page 22

قدرت کے آغوش میں

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۲، صفحہ ۲۲

اور جہنم سے اپنے آپ کو بچاؤ۔

میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: جی چاہتا ہے کہ یہاں ایک تربیتی ادارہ قائم ہو جس میں لوگ دس دس، میں بیس کی تعداد میں آکر شریک ہوں۔ یہاں کی آفاقی فضاؤں میں ہی وہ تربیت گاہ بن سکتی ہے جس میں وہ انسان پیدا کرنے کی کوشش کی جائے جو خدا میں جیتے ہوں۔ جو انسانی پستیوں کے بجائے خدائی بلندیوں میں اپنی روح کی غذا پارہے ہوں۔ جو فانی دنیا کے بجائے ابدی دنیا میں سانس لیتے ہوں۔ کائنات میں غور و فکر آدمی کو خدا سے جوڑتا ہے، جب کہ انسانی بحثوں میں خوض سے صرف ذہنی مو شگافیاں وجود میں آتی ہیں۔ ایک کے اندر معرفت خداوندی کی غذا ہے اور دوسرے کے اندر اختلاف و انتشار کا سامان۔ اس قسم کا پہاڑی مقام جو قدرتی مناظر سے گھرا ہوا ہو وہ یقیناً سب سے زیادہ موزوں جگہ ہے جہاں خدا کے بندوں کو خدا پرستی کا درس دیا جائے۔

یہاں ہر طرف قدرتی چشمے ہیں جن سے سال بھر شفاف پانی بہتا رہتا ہے۔ ایسے ماحول میں جب کوئی کہنے والا کہے کہ اللہ کا فیضان ہدایت ہر وقت تمہارے لئے برس رہا ہے اس میں سے اپنا حصہ لو تو پانی کے بہتے ہوئے چشمے اپنی دھیمی موسیقی کے ساتھ اس کی تائید کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ۔ جب آپ کہیں کہ اللہ سب سے بڑا ہے، اس کی بڑائی کو مان کر اس کے آگے جھک جاؤ تو پہاڑوں کی بلندیاں اپنی خاموش زبان میں بول پڑتی ہیں کہ کہنے والے نے سچ کہا۔ جب آپ لوگوں سے کہیں کہ ایمان کو اس طرح اپناؤ کہ وہ تمھاری پوری ہستی کو تر و تازہ کردے تو چاروں طرف اگے ہوئے سرسبز و شاداب درخت اس قول کی مجسم تفسیر بن کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ جب آپ کہیں کہ اختلاف اور شکایت سے اوپر اٹھ کر زندگی گزارو تو آسمان کی بلندیاں اپنے آفاقی پھیلاؤ کے ساتھ اس کی خاموش تصدیق بن جاتی ہیں۔ جب آپ کہیں کہ ہر آدمی کو چاہئے کہ وہ دوسروں سے ٹکرائے بغیر اپنی سرگرمیوں کو جاری کرے تو یہاں کی کھلی ہوئی کائنات اپنے پورے وجود کے ساتھ پکار اٹھتی ہے کہ معجی ترقی کا راز بلا شبہ اس دنیا میں یہی ہے، اس کے سوا اور کسی چیز میں نہیں۔

خدا سے قریب ہونے کی سب سے بہتر جگہ خدا کی کھلی ہوئی کائنات ہے مگر لوگوں کا حال یہ ہے کہ خدا کی قربت کو کوئی شخص تنگ و تاریک حجروں میں تلاش کر رہا ہے اور کوئی سیاست و تمدن کے ہنگاموں میں کوئی اپنے مادی مسائل میں الجھا ہوا ہے اور کوئی اپنے قومی مسائل میں۔ انسانی روح کی غذا اور اصل واقعات خدا وندی میں رکھی گئی ہے مگر لوگ واقعات انسانی کو اپنی روح کی غذا بنائے ہوئے ہیں۔ ایسی حالت میں خدا کی زمین اگر ربانی انسانوں سے خالی ہو تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں

‹ Previous page Next page › Contents of July 1982 All issues

Printed page