یہ بگاڑ ہے یا اصلاح
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۲، صفحہ ۲۴
ربی عزوجل ان لا يلبسنا شيعا فمنحنيها امتیں ہلاک کی گئیں۔ اس نے مجھ کو دے دیا۔ پھر میں نے اپنے رب سے مانگا کہ وہ ہمارے اوپر ہمارے باہر کے دشمن کو (کامل طور پر) مسلط نہ کرے۔ یہ بھی اس نے مجھ کو دے دیا۔
پھر میں نے اپنے رب سے مانگا کہ وہ ہم کو گروہوں میں نہ بانٹے۔
اس کی قبولیت سے اس نے انکار کر دیا۔
ایک اور روایت میں مزید یہ الفاظ ہیں کہ میں اپنی امت پر گمراہ قائدین کے سوا کسی اور سے نہیں ڈرتا۔ جب میری امت میں ایک بار تلوار چل جائے گی تو وہ قیامت تک اس سے اٹھائی نہ جائے گی (انی لا اخاف علی امتی الا الائمة المضلین فاذا وضع السيف في امتي لم يرفع عنهم الى يوم القيامة)
امت مسلمہ کے بگاڑ پر ہونے کی کم از کم ایک یقینی پہچان یہ ہے کہ وہ گروہوں میں بٹ جائے اور اس کے ایک گروہ کی طاقت دوسرے گروہ کے خلاف استعمال ہونے لگے۔
موجودہ زمانہ میں بگاڑ کی یہ علامت مسلمانوں میں پوری طرح نمایاں ہو چکی ہے۔ آج ان میں ایسے مذہبی مسائل اور سیاسی نظریات فروغ پا رہے ہیں جو انھیں باہم حریف بنا کر ایک کو دوسرے سے ٹکرا دیں۔ ان میں ایسے لیڈر اٹھ رہے ہیں جو خود اپنے ملک کو فتح کر کے اس کے اوپر اپنی کامرانی کا جھنڈا لہرا ئیں ۔ ان میں ایسے بہادر ابھر رہے ہیں جو خود اپنی قوم کے اداروں پر دھاوا بول کر ان پر قبضہ کر لیں اور ان کے اموال کو اپنے لئے غنیمت بنالیں ۔ ان میں ایسے مفکرین اور مدیرین پیدا ہورہے ہیں جو اپنی قوم کے کچھ لوگوں کو ” برائی کی علامت“ قرار دے کر ان کے خلاف محاذ آرائی کریں اور ان کے قتل و غارت کا منصوبہ بنائیں۔ ان میں ایسی جماعتیں وجود میں آرہی ہیں جو خود اپنی قوم کی دوسری جماعتوں کی بیخ کنی کو نشانہ بنا کر کام کریں غرض یہ پوری قوم بے شمار گروہوں میں بٹ گئی ہے۔ ہر شخص جس کے پاس کچھ طاقت ہے وہ اپنے بھائی کو اس کا مزہ چکھانے کے لئے بے قرار نظر آتا ہے۔
آج پوری امت، فرد سے لے کر گروہ تک، باہمی تصادم میں مشغول ہے۔ ملت کے افراد کا حال یہ ہے کہ وہ دوسری قوم کے آدمی کو برداشت کر سکتے ہیں مگر اپنی قوم کے آدمی کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں۔ دوسری اقوام کے خلاف کارروائی کرنے کے لئے ہر ایک بزدل ہے، مگر اپنی قوم سے لڑنے کے لئے ہر ایک بہادر بنا ہوا ہے ۔ امت مسلمہ کی طاقت جو اغیار کے استیصال کے لئے تھی وہ خود ساختہ الفاظ بول کر خود اپنی قوم کے لوگوں کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔ یہ بلاشبہ خدا کے غضب کی علامت ہے، خواہ ہم بطور خود اس کو خدا کی رحمت قرار دے کر خوش ہو رہے ہوں۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1982 All issues