Al-Risala · July 1982 · page 25

یہ بگاڑ ہے یا اصلاح

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۲، صفحہ ۲۵

تذکیر القرآن ۲ یونس ۱۰ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ الر تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِيمِ ﴿١﴾ أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا أَنْ أَوْحَيْنَا إِلَىٰ رَجُلٍ مِّنْهُمْ أَنْ أَنذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا أَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِندَ رَبِّهِمْ ۗ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ إِنَّ هٰذَ الَسٰحِرٌ مُّبِينٌ ﴿٢﴾ آیاتہا ۱۰۹ سورہ یونس مکیہ رکوعاتہا ۱۱ شروع الله کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے الف لام را، یہ پر حکمت کتاب کی آیتیں ہیں۔ کیا لوگوں کو اس پر حیرت ہے کہ ہم نے انہیں میں سے ایک شخص پر وحی کی کہ لوگوں کو ڈراؤ اور جو ایمان لائیں ان کو خوش خبری سنا دو کہ ان کے لئے ان کے رب کے پاس سچا مرتبہ ہے منکروں نے کہا کہ یہ شخص تو کھلا جادوگر ہے ۲-۱ پیغمبر کا کلام انتہائی محکم دلائل پر مبنی ہوتا ہے، وہ اپنے غیر معمولی انداز کی بنا پر خود اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ وہ خدا کی طرف سے بول رہا ہے۔ اس کے باوجود ہر زمانہ میں لوگوں نے پیغمبر کا انکار کیا۔ اس کی وجہ انسان کی ظاہر پرستی ہے۔ پیغمبر اپنے معاصرین کی نظر میں عام انسانوں کی طرح بس ایک انسان ہوتا ہے۔ اس کے گرد ابھی عظمت کی وہ تاریخ جمع نہیں ہوتی، جو بعد کے زمانہ میں اس کے نام کے ساتھ وابستہ ہو جاتی ہے۔ اس لئے پیغمبر کے زمانہ کے لوگ پیغمبر کو محض ایک انسان سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ وہ پیغمبر کو نہ خدا کے بھیجے ہوئے کی حیثیت میں دیکھ پاتے اور نہ مستقبل میں بننے والی تاریخ کے اعتبار سے اس کا اندازہ کر پاتے، جب کہ ہر آدمی اس کی پیغمبرانہ عظمت کو ماننے پر مجبور ہوگا۔ پیغمبر کا کلام سراپا اعجاز ہوتا ہے جو سننے والوں کو بے دلیل کر دیتا ہے۔ مگر منکرین اس کی اہمیت کو گھٹانے کے لئے یہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ ادبی ساحری ہے۔ وہ دلیل کے میدان میں اپنے آپ کو عاجز پا کر اس کے اوپر عیب لگانے لگتے ہیں۔ اس طرح وہ پیغمبر کے کلام کی صداقت کو مشتبہ کرتے ہیں۔ پیغمبر کا کلام جن لوگوں کو مفتوح کر رہا تھا ان کے بارے میں یہ تاثر دیتے ہیں کہ وہ محض سادگی میں پڑے ہوئے ہیں، ورنہ یہ سارا معاملہ الفاظ کے فریب کے سوا اور کچھ نہیں۔ یہ زبان کی جادوگری ہے نہ کہ کوئی واقعی اہمیت کی چیز۔ پیغمبر کا اصل مشن انذار و تبشیر ہے۔ یعنی خدا کی پکڑ سے ڈرانا اور جو لوگ خدا سے ڈر کر دنیا میں رہنے کے لئے تیار ہوں ان کو جنت کی خوش خبری دینا۔ پیغمبر اس لئے آتا ہے کہ لوگوں کو اس حقیقت واقعہ سے آگاہ کر دے کہ آدمی اس دنیا میں آزاد اور خود مختار نہیں ہے اور نہ زندگی کا قصہ آدمی کی موت پارہ ۱۱

‹ Previous page Next page › Contents of July 1982 All issues

Printed page