یہ بگاڑ ہے یا اصلاح
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۲، صفحہ ۲۷
تذکیر القرآن ۲ یونس ۱۰ کائنات کا یہ حیران کن نظام خود ہی پکار رہا ہے کہ اس کا مالک اتنا کامل اور اتنا عظیم ہے جس کے یہاں کسی سفارشی کی سفارش چلنے کا کوئی سوال نہیں۔ کائنات اپنی خصوصیات کے آئینہ میں اپنے خالق کی خصوصیات کو بتا رہی ہے۔
ساری کائنات میں "قسط" کا نظام قائم ہے۔ یہاں ہر ایک کے ساتھ یہ ہو رہا ہے کہ جو کچھ وہ کرتا ہے اسی کے مطابق نتیجہ اس کے سامنے آتا ہے۔ ہر ایک کو وہی ملتا ہے جو اس نے کیا تھا اور ہر ایک سے وہ چھن جاتا ہے جس کے لئے اس نے نہیں کیا تھا۔ زمین کا جو حصہ رات کے اسباب جمع کرے وہاں تاریکی پھیل کر رہتی ہے اور زمین کا جو حصہ روشنی کے اسباب پیدا کرے اس کے اوپر روشن سورج چمک کر رہتا ہے۔ یہ مادی نتائج کا حال ہے۔ مگر اخلاقی نتائج کے معاملہ میں دنیا کی تصویر بالکل مختلف نظر آتی ہے۔ انسان نیکی کرتا ہے اور اس کو نیکی کا پھل نہیں ملتا۔ انسان سرکشی کرتا ہے مگر اس کی سرکشی اپنا نتیجہ دکھائے بغیر جاری رہتی ہے۔ خالق کی جو مرضی اس کی دوسری مخلوقات میں چل رہی ہے اس کی وہی مرضی انسان کے معاملات میں کیوں ظاہر نہیں ہوتی۔
اس کا جواب یہ ہے کہ انسان کی زندگی میں خدائی انصاف کے ظہور کو خدا نے بعد کو آنے والی دنیا کے لئے مؤخر کر دیا ہے۔ پہلی زندگی انسان کو عمل کے لئے دی گئی ہے، دوسری زندگی اس کو اپنے عمل کا نتیجہ پانے کے لئے دی جائے گی ۔ اور دوسری زندگی کا ظہور یقیناً اتنا ہی ممکن ہے جتنا پہلی زندگی کا ظہور۔ هُوَ الَّـذِىْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَا ءً وَّالْقَمَرَ نُوْرًا وَّقَدَّرَهُ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِيْنَ وَالْحِسَابَ مَا خَلَقَ اللَّهُ ذَلِكَ إِلَّا بِالْحَقِّ يُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ اِنَّ فِي اخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَمَا خَلَقَ اللَّهُ فِي السَّمٰوَاتِ وَ الْأَرْضِ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَّتَّقُونَ © اللہ ہی ہے جس نے سورج کو چمکتا بنایا اور چاند کو روشنی دی اور اس کی منزلیں مقرر کر دیں تاکہ تم برسوں کا شمار اور حساب معلوم کرو اللہ نے یہ سب کچھ بے مقصد نہیں بنایا ہے۔ وہ نشانیاں کھول کر بیان کرتا ہے ان کے لئے جو سمجھ رکھتے ہیں۔ یقیناً رات اور دن کے الٹ پھیر میں اور اللہ نے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں پیدا کیا ہے ان میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو ڈرتے ہیں۔ ۵
‹ Previous page Next page › Contents of July 1982 All issues