Al-Risala · July 1982 · page 26

یہ بگاڑ ہے یا اصلاح

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۲، صفحہ ۲۶

کے ساتھ ختم ہو جانے والا ہے۔ بلکہ موت کے بعد ابدی زندگی ہے اور آدمی کو سب سے زیادہ اسی کی فکر کرنا چاہئے۔ جو شخص غفلت برتے گا یا سرکشی کرے گا وہ موت کے بعد کی دنیا میں اس حال میں پہنچے گا کہ وہاں اس کے لئے دُکھ کے سوا اور کچھ نہ ہوگا۔

ظاہر پرست انسان ہمیشہ یہ سمجھتا ر ہاہے کہ عزت اور ترقی اس شخص کے لئے ہے جس کے پاس دنیا کا اقتدار ہے ، جو دنیا کی دولت کا مالک ہے۔ پیغمبر بتاتا ہے کہ یہ سراسر دھوکا ہے۔ یہ عزت و ترقی تو وہ ہے جو موجودہ عارضی زندگی میں انسانوں کے درمیان ملتی ہے۔ مگر عزت اور ترقی دراصل وہ ہے جو مستقل زندگی میں خدا کے یہاں حاصل ہو۔ وہی عزت و ترقی حقیقی ہے اور اسی کے ساتھ دائمی بھی۔ إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَىٰ عَلَى الْعَرْشِ ۖ يُدَبِّرُ الْأَمْرَ ۖ مَا مِنْ شَفِيعٍ إِلَّا مِنْ بَعْدِ إِذْنِهِ ۚ ذَٰلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوهُ ۚ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ ﴿٣﴾ إِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًا ۖ وَعْدَ اللَّهِ حَقًّا ۚ إِنَّهُ يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ لِيَجْزِيَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ بِالْقِسْطِ ۚ وَالَّذِينَ كَفَرُوا لَهُمْ شَرَابٌ مِنْ حَمِيمٍ وَعَذَابٌ أَلِيمٌ بِمَا كَانُوا يَكْفُرُونَ ﴿٤﴾ بے شک تمھارا رب اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں (ادوار) میں پیدا کیا ، پھر وہ عرش پر قائم ہوا۔ وہی معاملات کا انتظام کرتا ہے ۔ اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش کرنے والا نہیں۔ یہی اللہ تمھارا رب ہے پس تم اسی کی عبادت کرو، کیا تم سوچتے نہیں۔ اسی کی طرف تم سب کو لوٹ کر جانا ہے، یہ اللہ کا پکا وعدہ ہے۔ بے شک وہ پیدائش کی ابتدا کرتا ہے ، پھر وہ دوبارہ پیدا کرے گا تاکہ جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک کام کئے ان کو انصاف کے ساتھ بدلہ دے۔ اور جنھوں نے انکار کیا ان کے انکار کے بدلے ان کے لئے کھولتا پانی اور دردناک عذاب ہے ۳-۴ کائنات میں مختلف قسم کی چیزیں ہیں۔ علمی مطالعہ بتاتا ہے کہ ان چیزوں کا ظہور بیک وقت نہیں ہوا بلکہ تدریج کے ساتھ ایک کے بعد ایک ہوا ہے۔ قرآن اس تدریجی تخلیق کو چھ ادوار (Periods) میں تقسیم کرتا ہے۔ یہ دوری تخلیق ثابت کرتی ہے کہ کائنات کی پیدائش شعوری منصوبہ کے تحت ہوئی ہے۔ پھر کائنات کا مطالعہ یہ بھی بتاتا ہے کہ اس کا نظام حد درجہ محکم قوانین کے تحت چل رہا ہے۔ ہر چیز ٹھیک اسی طرح عمل کرتی ہے جس طرح مجموعی تقاضے کے تحت اسے عمل کرنا چاہئے۔ یہ واقعہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اس کارخانہ کائنات کا ایک زندہ مدبر ہے جو ہر لمحہ اس کا انتظام کر رہا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1982 All issues

Printed page