Al-Risala · July 1982 · page 31

پاره ۱۱

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۲، صفحہ ۳۱

لگے تو ان کی مہلت بہت جلد ختم ہو جائے اور زمین کی پشت چلنے والے انسانوں سے خالی ہو جائے ۔ دنیا کی زندگی میں سرکش وہ لوگ بنتے ہیں جو دنیا میں یہ سمجھ کر رہیں کہ مرنے کے بعد انہیں خدا کا سامنا نہیں کرنا ہوگا۔ جو پکڑ کے اندیشے سے خالی ہو کر زندگی گزارتے ہیں۔ جو سمجھتے ہیں کہ وہ آزاد ہیں کہ جو دھاندلی چاہیں کریں اور جو فساد چاہیں پھیلائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ لوگوں کے ورمیان سچائی اور انصاف کے ساتھ معاملہ کرنے کا ایک ہی حقیقی محرک ہے، اور وہ یہ کہ آدمی یہ سمجھے کہ سب طاقت وروں کے اوپر ایک طاقت در ہے۔ ہر آدمی اس کے آگے بے بس ہے۔ وہ ایک دن تمام انسانوں کو پکڑے گا اور ہر ایک مجبور ہوگا کہ اپنے بارے میں اس کے فیصلہ کو تسلیم کرے۔

دنیا کا نظام اس طرح بنا ہے کہ آدمی بار بار کسی نہ کسی تکلیف یا حادثہ کی زد میں آ جاتا ہے، آدمی محسوس کرنے لگتا ہے کہ خارجی طاقتوں کے مقابلہ میں وہ بالکل بے بس ہے۔ اس وقت آدمی بے اختیار ہو کر خدا کو پکارنے لگتا ہے۔ وہ خدا کی قدرت کے مقابلہ میں اپنے عجز کا اعتراف کر لیتا ہے۔ مگر یہ حالت صرف اس وقت تک رہتی ہے جب تک وہ مصیبتوں کی گرفت میں ہو، مصیبت سے نجات پاتے ہی وہ دوبارہ ویسا ہی غافل اور سرکش بن جاتا ہے جیسا وہ پہلے تھا۔ ایسے لوگوں کے اظہار بندگی کو خدا تسلیم نہیں کرتا۔ کیونکہ اظہار بندگی وہ مطلوب ہے جو آزادانہ حالات میں کی جائے، مجبورانہ حالات میں ظاہر کی ہوئی بندگی کی خدا کے نزدیک کوئی قیمت نہیں ۔

آدمی ایک توجیہہ پسند مخلوق ہے ۔ وہ ہر عمل کا ایک جواز تلاش کرتا ہے۔ اگر آدمی سرکشی کو اپنے لئے پسند کرے تو اس کا ذہن بھی اسی طرف مڑ جائے گا۔ وہ عملاً سرکشی کرے گا اور اس کا ذہن اس کی سرکشی کو درست ثابت کرنے کے لئے اس کو خوبصورت الفاظ فراہم کرتا رہے گا۔ اسی کا نام تزئین اعمال ہے۔ آدمی اپنی غلطیوں کو خوش نما الفاظ میں بیان کر کے اپنے کو مطمئن کر لیتا ہے کہ وہ حق پر ہے۔ مگر یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص آگ کا انگارہ اپنے ہاتھ میں لے لے اور سمجھے کہ وہ اس کو نہیں جلائے گی کیونکہ اس کا نام اس نے سرخ پھول رکھ دیا ہے ۔ وَلَقَدْ أَهْلَكْنَا الْقُرُونَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَمَّا ظَلَمُوا ۚ وَجَاءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنَاتِ وَمَا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا ۚ كَذَلِكَ نَجْزِي الْقَوْمَ الْمُجْرِمِينَ ﴿١٣﴾ ثُمَّ جَعَلْنَاكُمْ خَلَائِفَ فِي الْأَرْضِ مِنْ بَعْدِهِمْ لِنَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ ﴿١٤﴾ اور ہم نے تم سے پہلے قوموں کو ہلاک کیا جب کہ انہوں نے ظلم کیا۔ اور ان کے پیغمبران کے پاس کھلی دلیلوں کے ساتھ آئے اور وہ ایمان لانے والے نہ بنے۔ ہم ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں مجرم لوگوں کو۔ پھر ہم نے ان کے بعد تم کو ملک میں جانشین بنایا تاکہ ہم دیکھیں کہ تم کیسا عمل کرتے ہو ۱۳۔ ۱۴

‹ Previous page Next page › Contents of July 1982 All issues

Printed page