Al-Risala · July 1982 · page 32

پاره ۱۱

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۲، صفحہ ۳۲

یونس ۱۰ تذکیر القرآن ۲ پیغمبر اپنی قوموں کے پاس بینات کے ساتھ آئے مگر انہوں نے نہ مانا۔ بینہ جمع بینات کے معنی دلیل کے ہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کا داعی ہمیشہ بینات کی بنیاد پر اٹھتا ہے۔ لوگوں کو اسے دلائل کی سطح پر پہچاننا پڑتا ہے۔ جو لوگ ظاہری عظمتوں اور عوامی استقبالیوں میں خدا کے داعی کو پانا چاہیں وہ کبھی اس کو نہیں پائیں گے، کیونکہ خدا کا داعی وہاں موجود ہی نہیں ہوتا۔ نبی معجزہ دکھاتا ہے۔ مگر معجزہ آخری مرحلہ میں اتمام حجت کے لئے آتا ہے، دعوتی مرحلہ میں سارا کام دلائل کی بنیاد پر ہوتا ہے۔

کسی شخص یا گروہ کا ظالم ہونا یہ ہے کہ وہ دلیل کے روپ میں ظاہر ہونے والی دعوت خداوندی کو نہ پہچانیں اور اپنے خود ساختہ معیار پر نہ پانے کی وجہ سے اس کا انکار کر دیں۔ ایسے لوگ اپنی اس روش کی وجہ سے خدائی قانون کی زد میں آجاتے ہیں۔

ماضی کی جن قوموں پر انکار نبوت کے جرم میں خدا کا عذاب نازل ہوا وہ سرے سے نبوت کی منکر نہ تھیں۔ یہ تمام قومیں کسی نہ کسی سابق پیغمبر کو مانتی تھیں ۔ البتہ انہوں نے وقت کے پیغمبر کو ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ پچھلے پیغمبر کا معاملہ یہ تھا کہ اس کی پشت پر تاریخ کی تصدیقات قائم ہوگئی تھیں اور قومی عصبیتیں اس کے ساتھ وابستہ ہو چکی تھیں۔ جب کہ معاصر پیغمبر بھی اس قسم کی اضافی خصوصیات سے خالی تھا۔ انہوں نے اس گزرے ہوئے پیغمبر کا اقرار کیا جو نسلوں کی روایات کے نتیجہ میں ان کا قومی پیغمبر بن چکا تھا، جس کے ساتھ اپنے کو منسوب کرنا تاریخی عظمت کے مینار سے اپنے کو منسوب کرنے کے ہم معنی تھا۔ انہوں نے اپنے قومی پیغمبر کو پیغمبر مانا مگر اس پیغمبر کا انکار کر دیا جس کو صرف دلیل اور برہان کے ذریعہ جانا جاسکتا تھا۔

یہ جرم خدا کی نظر میں اتنا شدید تھا کہ وہ لوگ نبی کے منکر قرار دے کر ہلاک کر دیے گئے۔ "پھر ہم نے اس کے بعد تم کو ملک میں خلیفہ بنایا"۔ خلیفہ کے اصل معنی ہیں بعد کو آنے والا۔ یہ لفظ جانشینِ خاص طور پر، اقتدار میں جانشین کے لئے بولا جاتا ہے۔ یہ جانشینی انسان کی ہوتی ہے نہ کہ خدا کی ۔ کوئی انسان اقتدار میں خدا کا جانشین نہیں ہو سکتا۔ انسان ہمیشہ کسی مخلوق کا جانشین ہوتا ہے۔ قرآن میں جہاں بھی خلافت کا لفظ آیا ہے وہ مخلوق کی جانشینی کے لئے ہے نہ کہ خدا کی جانشینی کے لئے۔

کسی کو خلیفہ (جانشین) بنانا اعزاز کے لئے نہیں بلکہ صرف امتحان کے لئے ہوتا ہے۔ جانشین بنانے کا مطلب ایک کے بعد دوسرے کو کام کا موقع دینا ہے، ایک قوم کے بعد دوسری قوم کو امتحان کے میدان میں کھڑا کرنا ہے۔ جیسے ہندوستان میں دیسی راجاؤں کی جگہ مغلوں کو اختیار دیا گیا۔ پھر ان کو ہٹا کر انگرییزان کے جانشین بنائے گئے۔ اس کے بعد انہیں ملک سے نکال کر اکثریتی فرقہ کے لئے جگہ خالی کی گئی ان میں سے ہر بعد کو آنے والا اپنے پہلے کا خلیفہ تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1982 All issues

Printed page