Al-Risala · July 1982 · page 33

ہمارے علماءءءءءءء

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۲، صفحہ ۳۳

ہمارے علماءءءءءءء

مولانا عبید اللہ سندھی (۱۹۱۴ - ۱۸۷۲) نے ہندوستان کی آزادی کی تحریک کے زمانہ میں یورپ کا سفر کیا تھا۔ وہ یورپ کے سفر سے واپس آئے تو انھوں نے تجویز پیش کی کہ علما اپنا موجودہ کرتا اور پاجامہ اتار دیں اور ہیٹ اور پتلون پہنیں۔ اس سے ان کا جمود ٹوٹے گا اور ان کے اندر جدید حالات کے لحاظ سے سوچنے کی صلاحیت پیدا ہوگی۔ علما یہ تجویز سن کر بگڑ گئے کسی نے مولانا عبید اللہ سندھی کو کافر قرار دیا، کسی نے کہا کہ وہ پاگل ہو گئے ہیں۔

ہمارے علما کبھی اس کے لئے تیار نہیں ہو سکتے کہ وہ ہیٹ اور کوٹ پینٹ پہن کر سڑکوں پر چلیں، حالانکہ یہ زیادہ سے زیادہ لغو ہے نہ حرام دوسری طرف یہی علما جان بوجھ کر ایسے کام کرتے ہیں جو شریعت میں صراحتہً حرام قرار دیے گئے ہیں۔ وہ اسلامی اتحاد کو توڑتے ہیں، وہ ایک دوسرے کے خلاف تخریب کاری کے منصوبے بناتے ہیں۔ ان کا ایک گروہ دوسرے گروہ پر غبن، خیانت، کذب بیانی اور عہد شکنی کے الزامات لگاتا ہے۔ وہ ایک دوسرے کی پوشیدہ باتوں کا پتہ لگا کر عوام میں ان کو شہرت دیتے ہیں۔ اگر کوئی شخص ان کے اوپر تنقید کر دے تو اس کے خلاف ان کے انتقام کی آگ برسوں تک نہیں بجھتی۔ یہ سارے کام بلاشبہ خدا کی شریعت میں حرام ہیں۔ مگر ہمارے علما پوری دلیری کے ساتھ ان کا ارتکاب کرتے ہیں، وہ اس مقصد کے لئے جلسے کرتے ہیں، لاکھوں روپے خرچ کر کے اخبار نکالتے ہیں جو ان کی ان خرافات کی اشاعت کرے، وہ اپنے لوگوں کو ملا کر جتھے بناتے ہیں اور پھر ایک جتھا دوسرے جتھے کو گرانے اور ذلیل کرنے کے لئے وہ تمام کارروائیاں کرتا ہے جو اس کے لئے ممکن ہیں۔

یہ صورت حال ثابت کر رہی ہے کہ ہمارے علما کے یہاں اب صرف نمائش والا دین باقی رہ گیا ہے، حقیقت والا دین ان کے یہاں موجود نہیں۔ عوام میں اپنا دینی وقار قائم رکھنے کے لئے عرفی طور پر جن چیزوں کی اہمیت ہے ان پر وہ سختی سے قائم ہیں اور جو چیزیں خدا کے یہاں ان کو روسیاہ کرنے والی ہیں ان کی انھیں کوئی فکر نہیں۔ ان کو عوام کا ڈر ہے۔ مگر خدا کا ان کے دل میں کوئی ڈر نہیں۔ عوام چندے دیتے ہیں، عوام استقبال کرتے ہیں، عوام حلقہ فراہم کرتے ہیں۔ عوام کے بل پر قیادت و پیشوائی حاصل ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے لوگ سب سے زیادہ اہمیت اس بات کو دیتے ہیں کہ عوام کے درمیان ان کا دینی بھرم قائم رہے۔ ان کو دنیا کی ضرورت تھی جو عوام کے ذریعہ انھیں مل گئی۔ پھر خدا کی جنت اور جہنم کے لئے فکر مند ہونے کی انھیں کیا ضرورت۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1982 All issues

Printed page