فساد کا ذمہ دار
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۲، صفحہ ۳۶
برگ کردن علما زماں برآمدہ آواز ہائے بلند و ددمہ بسیار ظاهر شد)
علما کی ان نازیبا حرکتوں سے بادشاہ کا متاثر ہونا فطری تھا۔ اس کو سخت گراں گزرا در خاطر اشرف گراں آمد) اس کے بعد بادشاہ نے پہلی کارروائی یہ کی کہ ملا بدایونی کو حکم دیا کہ اس قسم کے نامعقول عالموں کو آئندہ بادشاہ کی مجلس میں آنے نہ دیں۔ اس کے باوجود علما کی حرکتیں بند نہ ہوئیں۔ ان کی باتیں بادشاہ کے لئے ایمانی قوت کے بجائے بدگمانی اور برگشتگی میں اضافہ کا سبب بنتی رہیں۔ علما کا یہ حال تھا کہ ایک دوسرے کی ضد میں کوئی عالم ایک چیز کو حرام کہتا اور دوسرا اس کو حلال بتاتا۔ ان چیزوں نے بادشاہ کو شک میں ڈال دیا۔ اس کی حیرانی بڑھتی چلی گئی۔ یہاں تک کہ اصل مقصد ہی سامنے سے جاتا رہا ( درشک انداخته حیرت برحیرت افزود و مقصود از میاں رفت)
درباری علما میں سے ایک ملا عید اللہ سلطان پوری تھے۔ ان کا سرکاری لقب مخدوم الملک تھا۔ انھوں نے مختلف طریقوں سے جو دولت جمع کی تھی اس کا حال ملا بدایونی نے ان الفاظ میں لکھا ہے ” ان کا انتقال ہوا تو بادشاہ کے حکم سے ان کے مکان کا جائزہ لیا گیا۔ جولاہور میں تھا۔ اتنے خزانے اور دفینے ظاہر ہوئے کہ ان خزانوں کے تالوں کو وہم کی کنجیوں سے بھی کھولنا ممکن نہ تھا۔ حتی کہ سونے سے بھرے ہوئے چند صندوق مخدوم الملک کے خاندانی قبرستان سے برآمد ہوئے جنھیں مُردوں کے بہانے سے زمین میں دفن کیا گیا تھا۔ “ شاہ عبدالقدوس گنگوہی کے پوتے ملا عبدالنبی تھے جو اکبر کے زمانہ کے سب کے بڑے عالم سمجھے جاتے تھے۔ پورے ملک کے خطبہ اور ائمہ کے درمیان جاگیر تقسیم کرنے کا انھیں اختیار تھا۔ شہنشاہ اکبر ان کا اتنا زیادہ احترام کرتا تھا کہ ان کی جوتیاں سیدھی کرتا تھا۔ مگر مذکورہ مخدوم الملک اور ملا عبد النبی کے درمیان رقیبانہ کش مکش شروع ہوئی۔ ایک نے دوسرے کو جاہل اور گمراہ ثابت کرنے کے لئے رسالے لکھے۔ ایک نے دوسرے کی بابت لکھا کہ چونکہ انھیں بواسیر ہے اس لئے ان کے پیچھے نماز ناجائز ہے۔ دوسرے نے لکھا کہ تم اپنے باپ کے عاق کئے ہوئے بیٹے ہو اس لئے تمھارے پیچھے بھی نماز جائز نہیں۔ اس قسم کی لایعنی بحثوں سے شاہی کیمپ صبح و شام گونجتا رہتا تھا۔ شہنشاہ اکبر ابتدا ءً نہایت دین دار تھا اور دینی شخصیتوں سے بڑی عقیدت رکھتا تھا۔ مگر دین کے نمائندوں کی خرافات کو مسلسل دیکھنے کے بعد وہ دین سے بھی بیزار ہو گیا اور دینی شخصیتوں سے بھی۔ علما کا یہ حال تھا کہ جانوروں کی طرح آپس میں لڑتے۔ ایک عالم ایک فعل کو حرام بتاتا اور دوسرا عالم اسی فعل کو حلال قرار دیتا۔ ملا بدایونی لکھتے ہیں :
علما عهد خویش را بهتر از غزالی و رازی تصور نموده بودند اکبر اپنے زمانہ کے علما کو غزالی اور رازی سے بہتر رکاکت ہائے ایشاں را دیده قیاس غائب بر شاهد سمجھتا تھا۔ جب اس نے ان کی پست حرکتوں کو دیکھا تو حال
‹ Previous page Next page › Contents of July 1982 All issues