Al-Risala · July 1982 · page 37

فساد کا ذمہ دار

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۲، صفحہ ۳۷

کردہ سلف رائیز منکر شدند پر ماضی کو قیاس کرکے سب کا منکر ہوگیا۔

اس کے بعد اکبر کے دربار میں علماء کا وقار ختم ہوگیا۔ ابو الفضل اور فیضی جیسے لوگ دربار ہی میں اہمیت اختیار کرگئے ۔ اکبر کو علماء کی باتوں کی کوئی پرواہ نہیں رہی ۔ ابو الفضل اکبر کے سامنے علماء کا مذاق اُڑاتا اور اکبر اس کو سن کر خوش ہوتا ۔ ملا بدایونی کے الفاظ میں: کسی بحث کے درمیان اگر ائمہ مجتہدین کی کوئی بات پیش کی جاتی تو ابو الفضل اس کو نظر انداز کرتے ہوئے کہتا کہ فلاں حلوائی، فلاں کفش دوز اور فلاں چرم ساز کے قول سے تم میرے اوپر حجت قائم کرنا چاہتے ہو۔

حسد اور کبر یہودی علماء کا عام مرض تھا ۔ یہی ہمارے علماء کا بھی سب سے زیادہ عام مرض بن گیا ہے۔ صحابہ کرام بھی دین کے عالم تھے ۔ مگر ان کے درمیان حسد اور کبر کا وجود نہ تھا۔ پھر کیا وجہ ہے کہ بعد کے زمانہ کے علماء کے اندر یہ اخلاقی برائی اس قدر عمومی طور پر پیدا ہوگئی ۔ اس کی وجہ خود علم کا فرق ہے۔ صحابہ کرام کے زمانہ میں عالم ہونے کا مطلب کچھ اور تھا اور بعد کے زمانہ میں عالم ہونے کا مطلب کچھ اور ۔ صحابہ کرام کا نصاب تعلیم صرف قرآن و حدیث تھا ، اس کے برعکس بعد کے زمانہ میں دینی نصاب کے نام سے جو تعلیمی نصاب رایج ہوا اس میں قرآن و حدیث برائے نام رہ گئے اور اصل اہمیت دوسرے فنون نے لے لی ۔ اس فرق کا نتیجہ لازماً ظاہر ہونا تھا ، کیونکہ قرآن و حدیث کے علم سے آدمی کے اندر خشیت پیدا ہوتی ہے (فاطر ۲۸) اور فنی علوم سے احساس برتری (غافر ۸۳)

علم کے ساتھ عام طور پر بڑائی کا احساس پیدا ہو جاتا ہے ۔ اس سے مستثنیٰ صرف خدا کا علم ہے۔ خدا کا علم ایک ایسا علم ہے جس میں آدمی مالک کائنات کی عظمت اور اس کے مقابلہ میں اپنے عجز کو دریافت کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خدائی علم آدمی کے اندر خاکساری پیدا کرتا ہے۔ جبکہ دوسرے علوم آدمی کے اندر عجب اور گھمنڈ پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں۔

خدائی علم ابتدائی زمانہ میں صرف خدا کی کتاب اور رسول کی سنت پر مشتمل ہوتا ہے۔ مگر بعد کے زمانہ میں اس کو فنی بنانے کی کوشش شروع ہو جاتی ہے۔ فنی بنانے کی کوشش میں سادہ خدائی علم اس سطح پر پہنچ جاتا ہے جو عام دنیوی علوم کی سطح ہے۔ مشکل اصطلاحیں ، پیچیدہ اسلوب، منطقی ترتیب ، دور از کار بحثیں وغیرہ مل کر دینی علم کو ایسی شکل دے دیتے ہیں کہ وہ کہنے کے لئے بظاہر ایک دینی علم ہوتا ہے۔ مگر اپنے مجموعی تاثر کے اعتبار سے وہ ایک عام علم بن جاتا ہے۔ اس کو پڑھنے سے آدمی کے اندر نہ کوئی ربانی شعور جاگتا ہے اور نہ اس کے دل میں خوف خدا کا کوئی قطرہ ٹپکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسے علم کے ماہرین وہی کچھ کریں گے جس کی ایک تصویر اوپر کے واقعہ میں نظر آتی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1982 All issues

Printed page