Al-Risala · July 1982 · page 41

ربانی دستر خوان

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۲، صفحہ ۴۱

دنیوی مصلحتوں کے خلاف سمجھتے تھے۔ ان کو غلط طور پر یہ اندیشہ تھا کہ اگر انھوں نے خدا کے سچے دین کو پکڑا تو ان کی بنی بنائی دنیا تباہ ہو جائے گی۔ قرآن کی تاریخ اس اندیشہ کی عملی تردید ہے۔ قرآن کے ذریعہ جو تحریک چلائی گئی اس کو خدا نے اپنی خصوصی نصرت کے ذریعہ دعوت سے شروع کر کے واقعہ بننے کے مرحلہ تک پہنچایا اور اس کے عملی نتائج کو دکھا دیا۔ اس طرح خدا کے دین کی ایک مستقل تاریخ وجود میں آگئی۔ اب قیت تک لوگ حقیقی تاریخ کی زبان میں دیکھ سکتے ہیں کہ خدا کے سچے دین کو اختیار کرنے کے نتیجہ میں کس طرح زمین و آسمان کی تمام برکتیں نازل ہوتی ہیں۔ پھر اسی کے ذریعہ قرآن کی مستقل حفاظت کا انتظام بھی کر دیا گیا۔ ایک بڑے جغرافیہ میں اہل اسلام کا اقتدار اور وہاں اسلامی تہذیب و تمدن کا غلبہ اس بات کی ضمانت بن گیا کہ قرآن کو ایسا حفاظتی ماحول مل جائے جہاں کوئی اس میں کسی قسم کی تبدیلی پر قادر نہ ہو سکے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ مسلمانوں کا غلبہ تقریباً ڈیڑھ ہزار سال سے قرآن کا چوکی دار بنا ہوا ہے۔

ربانی دستر خوان

قرآن کو کچھ لوگ فضائل کی کتاب سمجھتے ہیں، کچھ لوگ مسائل کی کتاب اور کچھ لوگ سیاست کی کتاب۔ تینوں باتوں میں جزئی صداقت ہے مگر ان میں سے کوئی بھی قرآن کی صحیح تعبیر نہیں۔

قرآن کو فضائل کی کتاب ماننے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی آیتوں اور سورتوں میں طلسماتی برکتیں چھپی ہوئی ہیں۔ اور قرآن کے محض الفاظ کو دہرالینا ان برکتوں کے حصول کے لئے کافی ہے۔ اگر اس بات کو مان لیا جائے تو قرآن کی وہ تمام آیتیں بے معنی ہو جاتی ہیں جن میں آدمی کو غور کرنے پر ابھارا گیا ہے۔ قرآن ایسی آیتوں سے بھرا ہوا ہے جو آدمی کو اکساتی ہیں کہ وہ الفاظ سے گزر کر معانی کی گہرائی میں اترنے کی کوشش کرے۔ وہ قرآن میں تدبر کرے اور قرآنی زاویہ نگاہ سے اپنے آپ کو اور کائنات کو دیکھے۔ ان تعلیمات کی روشنی میں دیکھے تو قرآن کا مقصد ایسے انسان پیدا کرنا ہے جن کی فکری قوتیں بیدار ہوں، جو قرآن سے ذہنی غذا حاصل کریں اور عبرت کی نگاہ کے ساتھ دنیا میں زندگی گزاریں۔ ایسی حالت میں قرآن کو فضائل کی کتاب کہنا قرآن کی تصغیر ہے۔ کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن ذہنوں کو کھولنے والی کتاب نہیں۔ وہ صرف برکت کی کتاب ہے جس کو بند ذہن کے ساتھ پڑھا جائے اور پھر بند غلاف میں محفوظ کرکے رکھ دیا جائے ۔ اسی طرح قرآن کو مسائل کی کتاب کہنا بھی قرآن پر ظلم کرنا ہے۔ "مسائل" کے لفظ سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ قرآن ایسے اعمال کی کتاب ہے جن کو ظاہری آداب کے ساتھ ادا کر لینا کافی ہو۔ حالانکہ قرآن میں اس کے مطلوب اعمال کے ظاہری آداب کا ذکر ہی نہیں۔ قرآن آدمی کو ایمان کی دعوت دیتا ہے مگر وہ اس ایمان کو ایمان نہیں مانتا جو داخل القلب ایمان نہ ہو، جس میں صحت مخارج کے ساتھ بس کلمہ ایمان کے الفاظ کو دہرادیا گیا ہو۔ قرآن کے نزدیک حقیقی ایمان وہ ہے جو روح میں اتر جائے، جس میں آدمی کے دل کی دھڑکنیں شامل ہو جائیں۔ قرآن نماز کو فلاح کا ذریعہ بتاتا ہے مگر قرآن کی مطلوب نماز وہ ہے جو خشوع کی نماز ہو نہ کہ سہوکی نماز۔ قرآن چاہتا ہے کہ لوگ اللہ کا ذکر کریں۔ مگر وہ ذکر نہیں جو تکرار لسان کے طور پر ہوتا ہے بلکہ ایسا ذکر جس میں وہ والہانہ شیفتگی شامل ہو جو قومی ہیروؤں کے ذکر میں ہوتی ہے بلکہ اس ام

‹ Previous page Next page › Contents of July 1982 All issues

Printed page