قرآن فہمی کے شرائط
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۲، صفحہ ۴۲
سے بھی بڑھ کر یہ کہ قرآن کے نزدیک قربانی بہت بڑا عمل ہے مگر وہ قربانی نہیں جو گوشت اور خون کے ہم معنی ہو بلکہ وہ قربانی جو آدمی کے لئے تقویٰ کا ذریعہ بن جائے۔ اس طرح کے بے شمار احکام ہیں جو بتاتے ہیں کہ قرآن معروف معنوں میں مسائل کی کتاب نہیں بلکہ حقیقت کی کتاب ہے۔ وہ انسان کے اندر زندہ عمل دیکھنا چاہتا ہے نہ کہ محض ظاہری آداب و قواعد والا عمل ۔
قرآن میں یقیناً بعض سیاسی نوعیت کے احکام ہیں۔ مگر قرآن کو کتاب سیاست سمجھنا ایسا ہی ہے جیسے بعض جزئی مشابہت کی بنا پر انسان کو معاشی حیوان سمجھنا۔ اس نقطہ نظر کے حاملین یہ دیکھتے ہیں کہ نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ یہ واقعہ ہوا کہ دعوت و تبلیغ سے شروع ہو کر آپ کا مشن حکومت و سیاست تک پہنچا۔ اس بنا پر وہ کہتے ہیں کہ خدا کے پیغمبر اس لئے آتے ہیں کہ مخصوص احکام کی بنیاد پر خدا کی حکومت قائم کریں۔ مگر قرآن سے یہ ثابت ہے کہ خدا کی طرف سے جتنے پیغمبر آئے ان کا مشن الگ الگ نہ تھا بلکہ سب کا مشن ایک تھا۔ حتیٰ کہ قرآن میں پچھلے نبیوں کا ذکر کر کے نبی آخر الزماں سے کہا گیا ہے کہ تم بھی انھیں کی پیروی کرو (فبہد اھم اقتدہ) ایسی حالت میں یہ سوال ہے کہ جب نبیوں کا مشن خدائی حکومت قائم کرنا ہوتا ہے تو آخری نبی کے سوا دوسرے نبیوں نے بھی آپ کی طرح حکومت کیوں نہ قائم کی۔
اس نقطہ نظر کے حاملین اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ عمل کی حد تک تمام نبیوں نے خدائی حکومت کے قیام کے لئے جد و جہد کی۔ البتہ کسی کا عمل کوشش کے مرحلہ میں رہ گیا اور کسی کا عمل آخری نتیجہ تک پہنچا۔ مگر یہ جواب متعدد وجوہ سے غلط ہے۔ مثال کے طور پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو لیجئے ۔ اگر آنجناب کا مشن یہ تھا کہ مصر کے اقتدار سے فرعون کو بے دخل کر کے وہاں خدائی قانون کی حکومت قائم کریں تو ایسا کیوں ہوا کہ جب خدا نے فرعون کو ہلاک کر دیا اور اس کی پوری جنگی طاقت کو سمندر میں غرق کر دیا تو حضرت موسیٰ مصر کو چھوڑ کر صحرا ئے سینا میں چلے گئے ۔ اگر آپ کا مشن مصر میں حکومت الہیہ قائم کرنا تھا تو فرعون کی غرقابی کے بعد مصر میں اس کا پورا موقع آپ کے لئے کھل چکا تھا۔ ایسی حالت میں مصر کو چھوڑ کر چلے جانے کی کیا توجیہہ کی جائے گی ۔
حقیقت یہ ہے کہ قرآن خدائی نعمتوں کا ابدی خزانہ ہے، قرآن خدا کا تعارف ہے۔ قرآن بندے اور خدا کا مقام ملاقات ہے ۔ مگر اس قسم کے مفروضہ خیالات نے قرآن کو لوگوں کے لئے ایک ایسی کتاب بنا دیا جو یا تو ایک چلیں زمین ہے جہاں آدمی کی روح کے لئے کوئی غذا نہیں یا وہ کسی شاعر کے مجموعہ کلام کی طرح ایک ایسا لفظی مجموعہ ہے جس سے ہر آدمی بس اپنے مخصوص ذہن کی تصدیق حاصل کرلے ۔ وہ اصلاً خود اپنے آپ کو پائے اور یہ سمجھ کر خوش ہو کہ اس نے خدا کو پالیا ہے۔
قرآن فہمی کے شرائط
قرآن ایک فکری کتاب ہے اور فکری کتاب میں ہمیشہ ایک سے زیادہ تعبیر کی گنجائش رہتی ہے۔ اس لئے قرآن کو صحیح طور پر سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ پڑھنے والا خالی الذہن ہو۔ اگر پڑھنے والے کا ذہن خالی نہ ہو تو وہ قرآن میں خود
‹ Previous page Next page › Contents of July 1982 All issues