وحید الدین جمعہ ۱۳ نومبر ۱۹۸۱
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۲، صفحہ ۴۵
سورہ توبہ تک۔ دوسرا حصہ سورہ یونس سے سورہ عنکبوت تک۔ تیسرا حصہ سورہ روم سے سورہ ناس تک۔ قرآن عام انسانی کتاب کی طرح ابواب کے انداز میں نہیں ہے بلکہ شذرات کے انداز میں ہے۔ اگرچہ قرآن کی سورتوں اور عبارتوں میں ایک گہری ترتیب بھی ہے۔ مگر اس کا عام انداز یہ ہے کہ چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں ایک پورا پیغام ہے۔ ایک ایک "پیراگراف" میں ایک ایک بات ذہن نشین کرانے کی کوشش کی گئی ہے۔ تذکیر القرآن میں اسی شذراتی انداز کو تشریح کے لئے اختیار کیا گیا ہے۔ یعنی قرآن کا ایک ٹکڑا یا ایک "پیراگراف" لے کر اس میں جو بات کہی گئی ہے اس کو ایک مرتب تشریح کی صورت میں بیان کیا گیا ہے۔ ایسا اس لئے کیا گیا ہے تاکہ متعلقہ تشریح کو پڑھتے ہوئے قاری کے ذہن میں معانی کا سلسلہ نہ ٹوٹے اور وہ قرآن کی تذکیری غذا مسلسل لیتا چلا جائے۔
تذکیر القرآن کی ترتیب یہ رکھی گئی ہے کہ پہلے قرآن کا زیر تشریح ٹکڑا (پیراگراف) درج کیا گیا ہے۔ اس کے نیچے اس کا ترجمہ ہے۔ ترجمہ کے بعد ایک لکیر دے کر متعلقہ ٹکڑے کی تشریح ہے۔ جہاں تشریح ختم ہوتی ہے وہاں پھر قرآن کا اگلا ٹکڑا درج کرکے دوبارہ مذکورہ ترتیب سے ترجمہ اور تشریح درج ہے۔ اسی طرح ایک کے بعد ایک پوری سورہ کی تفسیر ہے۔ اس ترتیب میں قاری ہر تشریح کو پڑھتے ہوئے بیک وقت اس کا متن بھی سامنے رکھ سکتا ہے اور اسی کے ساتھ اس کا ترجمہ بھی۔
تذکیر القرآن میں یہ حکمت ملحوظ رکھی گئی ہے کہ ہر صفحہ پر ایک پوری بات آجائے۔ آدمی اگر ایک صفحہ پڑھے تب بھی قرآنی نصیحت کا کوئی حصہ اسے مل جائے اور زیادہ صفحات پڑھے تب بھی۔
ترتیب یہ رکھی گئی ہے کہ صفحہ کے اوپر قرآن کے ایک ٹکڑے (پیراگراف) کا ترجمہ ہے۔ اس کے بعد ایک لکیر دے کر اس کے نیچے تفسیر ہے۔ ان چند آیتوں میں جو باتیں کہی گئی ہیں ان باتوں کا حد درجہ پابند رہتے ہوئے ان کو ایک مسلسل مضمون کی صورت میں اس طرح لکھا گیا ہے کہ ہر صفحہ کی تفسیر اسی صفحہ پر ختم ہو جائے۔ تذکیر القرآن میں ترجمہ کا جو انداز اختیار کیا گیا ہے وہ نہ پوری طرح لفظی ہے اور نہ پوری طرح با محاورہ۔ بلکہ درمیان کی ایک صورت اختیار کی گئی ہے۔ دونوں ہی انداز کے اپنے اپنے فائدے ہیں اور درمیانی انداز اس لئے اختیار کیا گیا ہے کہ دونوں پہلوؤں کی رعایت شامل رہے۔
تفسیر میں عام طور پر تفصیل سے پرہیز کیا گیا ہے۔ زیادہ تر جو چیز پیش نظر رکھی گئی ہے وہ یہ کہ قرآن کی فطری سادگی اس کی تفسیر میں بھی باقی رہے ۔ قرآن ایک طرف خدا کے جلال کا اظہار ہے اور دوسری طرف وہ انسان کی عبدیت کا آئینہ ہے۔ تفسیر میں بس انہیں اصل پہلوؤں کوغیر فنی انداز میں نمایاں کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
وحید الدین جمعہ ۱۳ نومبر ۱۹۸۱
‹ Previous page Next page › Contents of July 1982 All issues