تذکیر القرآن کی خصوصیات
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۲، صفحہ ۴۴
میں وہ نہا اٹھے وہ کیسے سمجھ سکتا ہے کہ خدائی فیضان میں نہانے کا مطلب کیا ہے۔ قرآن چاہتا ہے کہ آدمی جہنم سے بھاگے اور جنت کی طرف دوڑے۔ اب جو شخص اس طرح زندگی گزارے کہ جہنم کو اس نے اپنا مسئلہ نہ بنایا ہو اور جنت اس کی ضرورت نہ بنی ہو اس کو کیا معلوم کہ جہنم سے بھاگنا کیا ہوتا ہے اور جنت کی طرف دوڑنا کیا معنی رکھتا ہے۔ قرآن چاہتا ہے کہ آدمی اللہ کی عظمت و کبریائی کے احساس سے سرشار ہو۔ اب جو شخص اپنی عظمت و کبریائی کے مینار میں لذت لے رہا ہو اس کو اس کیفیت کا ادراک کہاں ہو سکتا ہے جب کہ آدمی خدا کی کبریائی کو اس طرح پا تا ہے کہ اپنی طرف اس کو عجز کے سوا اور کچھ دکھائی نہیں دیتا۔
قرآنی عمل اصلاً نفس یا انسان کے اندرونی وجود کی سطح پر ہوتا ہے۔ مگر انسان کسی خلا میں زندگی نہیں گزارتا بلکہ دوسرے بہت سے انسانوں کے درمیان رہتا ہے۔ اس لئے قرآنی عمل باعتبار حقیقت ذاتی عمل ہونے کے باوجود دو پہلوؤں سے دوسرے انسانوں سے بھی متعلق ہو جاتا ہے۔ ایک اس اعتبار سے کہ آدمی جس قرآنی راستہ کو خود اپناتا ہے اسی راستہ کو اختیار کرنے کی وہ دوسروں کو بھی دعوت دیتا ہے۔ اس کے نتیجہ میں ایک آدمی اور دوسرے آدمی کے درمیان داعی اور مدعو کا رشتہ قائم ہوتا ہے۔ یہ رشتہ آدمی کو بے شمار تجربات سے گزارتا ہے جو مختلف صورتوں میں آخر وقت تک جاری رہتا ہے۔ دوسرے یہ کہ مختلف قسم کے انسانوں کے درمیان زندگی گزارتے ہوئے طرح طرح کے تعلقات معاملات پیش آتے ہیں۔ کسی سے لینا ہوتا ہے اور کسی کو دینا کسی سے اتفاق ہوتا ہے اور کسی سے اختلاف، کسی سے دوری ہوتی ہے اور کسی سے قربت۔ ان مواقع پر آدمی کیا رویہ اختیار کرے اور کس قسم کا رد عمل پیش کرے، قرآن ان امور میں اس کی مکمل رہنمائی کرتا ہے۔ اگر آدمی اپنی خواہش پر چلنا چاہے تو قرآن کا یہ باب اس پر بند رہے گا اور اگر وہ اپنے کو قرآن کی ماتحتی میں دیدے تو اس پر قرآنی تعلیمات کے ایسے بھید کھلیں گے جو کسی اور طرح اس پر کھل نہیں سکتے۔ قرآن آدمی کو جو مشن دیتا ہے وہ حقیقتہ کوئی "نظام" قائم کرنے کا مشن نہیں ہے۔ بلکہ اپنے آپ کو قرآنی کردار کی صورت میں ڈھالنے کا مشن ہے۔ قرآن کا اصل مخاطب فرد ہے نہ کہ سماج۔ اس لئے قرآن کا مشن فرد پر جاری ہوتا ہے نہ کہ سماج پر۔ تاہم افراد کی قابلِ لحاظ تعداد جب اپنے آپ کو قرآن کے مطابق ڈھالتی ہے تو اس کے سماجی نتائج بھی لاز ماً نکلنا شروع ہوتے ہیں۔ یہ نتائج ہمیشہ یکساں نہیں ہوتے بلکہ حالات کے اعتبار سے ان کی صورتیں بدلتی رہتی ہیں۔ قرآن میں مختلف انبیاء کے واقعات انھیں سماجی نتائج یا سماجی رد عمل کے مختلف نمونے ہیں اور اگر آدمی نے اپنی آنکھیں کھول رکھی ہوں تو وہ ہر صورتِ حال کی بابت قرآن میں رہنمائی پاتا چلا جاتا ہے۔ قرآْن فطرتِ انسانی کی کتاب ہے۔ قرآن کو وہی شخص بخوبی طور پر سمجھ سکتا ہے جس کے لئے قرآن اس کی فطرت کا ثانی بن جائے۔
تذکیر القرآن کی خصوصیات
تذکیر القرآن کا خاص مقصد قرآن کی یاد دہانی ہے۔ قرآن کی اصل حیثیت یہ ہے کہ وہ نصیحت ہے۔ تذکیر القرآن کی ترتیب میں سب سے زیادہ اسی پہلو کا لحاظ کیا گیا ہے کہ وہ پڑھنے والے کے لئے نصیحت بن سکے۔ تذکیر القرآن کو تین حصوں پر تقسیم کیا گیا ہے۔ ہر حصہ تقریباً دس پاروں پر مشتمل ہے۔ پہلا حصہ سورہ فاتحہ سے
‹ Previous page Next page › Contents of July 1982 All issues