Al-Risala · August 1982 · page 10

انجینئرنگ کافی نہیں

الرسالہ، اگست ۱۹۸۲، صفحہ ۱۰

انجینئرنگ کافی نہیں

ڈاکٹر فضل الرحمٰن خان دنیا کے مشہور ترین تعمیراتی انجینئر تھے۔ وہ ڈھاکہ میں پیدا ہوئے ۔ کلکتہ میں تعمیراتی انجینئرنگ (Architectural Engineering) کی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد اسی فن میں امریکہ سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری لی۔ ۱۹۶۳ء میں انھوں نے شکاگو میں ۴۳ منزلہ عمارت کا ٹھیکہ لے کر اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا۔ اپنی غیر معمولی ذہانت کی وجہ سے انھوں نے اس میدان میں مجتہدانہ کارنامے انجام دئے ۔ شکاگو میں ۱۱۰ منزلہ عمارت (Sears Tower) بنانے کے بعد انھوں نے جدید تعمیرات میں عالمی شہرت حاصل کی۔ دنیا کی یہ سب سے اونچی عمارت ان کے اپنے وضع کردہ غیر روایتی اصولوں پر بنائی گئی ہے۔ جس کو (Tubular Design) کہا جاتا ہے (ہندوستان ٹائمز ۹ مئی ۱۹۸۲)

ڈاکٹر فضل الرحمٰن خان کو اپنی اس غیر معمولی کامیابی کے باوجود قلبی سکون حاصل نہ تھا۔ مسٹر کے ایم اولادی ۱۹۷۶ء میں فضل الرحمٰن خان کے شکاگو کے دفتر میں ملے تھے۔ مسٹر اولادی نے انھیں ان کی کامیابیوں پر مبارک باد دی مگر ڈاکٹر فضل الرحمٰن نے اس کو سادہ چہرے کے ساتھ سنا۔ انھوں نے گفتگو کے دوران مسٹر اولادی سے کہا کہ زندگی انجینئرنگ سے زیادہ ہے:

Life is more than engineering

۲۷ مارچ ۱۹۸۲ء کو ڈاکٹر فضل الرحمٰن خان کا اچانک اس وقت انتقال ہوگیا جب کہ ان کی عمر صرف ۵۲ سال تھی۔ فضل الرحمٰن خان نے تعمیراتی انجینئرنگ میں جو اجتہادی اصول وضع کئے ان کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے جرمن انجینئر رابرٹ گیبریل (Robert Gabriel) نے ۳۶۵ منزلہ عمارت کا منصوبہ بنایا ہے جو زمین سے ایک میل اونچی ہوگی۔ مسٹر اولادی نے اپنی ملاقات میں ڈاکٹر فضل الرحمٰن خاں سے پوچھا کہ کیا وہ ایسی عمارت کی تعمیر کو ممکن سمجھتے ہیں، فضل الرحمٰن خاں نے اثبات میں جواب دیا۔ اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر اولادی اپنے مضمون کو اس جملہ پر ختم کرتے ہیں کہ آئندہ یورپ اور امریکہ میں ایسی اونچی عمارتیں کھڑی ہو چکی ہوں گی مگر افسوس کہ وہی آدمی ان کو دیکھنے کے لئے موجود نہ ہوگا جس نے ایسی عمارتوں کی تعمیر کو ابتدائی طور پر ممکن بنایا تھا :

The man who laid the foundation for making them

possible, alas, will no longer be there to witness them.

‹ Previous page Next page › Contents of August 1982 All issues

Printed page