بے فائدہ مصروفیت
الرسالہ، اگست ۱۹۸۲، صفحہ ۹
بے فائدہ مصروفیت
سالزنیںٹین (Alexander Solzhenitsyn) ایک روسی ناول نگار ہے۔ اس کو روسی عوام کے دکھوں کا احساس ہوا اور اس کو اس نے اپنی کہانیوں میں تمثیلی روپ میں ظاہر کرنا شروع کیا۔ اس کے نتیجہ میں وہ روس کی اشتراکی حکومت کی نظر میں ناپسندیدہ شخص بن گیا۔ چنانچہ اس نے اپنا وطن چھوڑ کر امریکہ میں پناہ لی ہے۔ وہ امریکہ کی ایک بستی (Vermont) میں خاموشی کی زندگی گزار رہا ہے۔ اور اپنے خیالات کتابوں کی صورت میں مرتب کرنے میں مصروف ہے۔
مئی ۱۹۸۲ میں سالزنیں ٹین کو امریکی حکومت کا ایک دعوت نامہ ملا۔ اس کے اعزاز میں واشنگٹن کے وھائٹ ہاؤس میں ایک سرکاری تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں دوسرے معزز لوگوں کے علاوہ خود صدر امریکہ بھی شریک ہوئے۔ نیز اس دوران میں امریکی صدر ریگن اور سالزنیں ٹین کے درمیان ۱۱۵ منٹ کی ایک خصوصی ملاقات بھی شامل تھی۔
سالزنیں ٹین نے صدر امریکہ کے نام ۳ مئی ۱۹۸۲ کو ایک جوابی خط لکھا جس کے ذریعہ تقریب میں شرکت سے قطعی معذوری ظاہر کی۔ اس نے لکھا کہ زندگی کے جو مختصر لمحات میرے پاس رہ گئے ہیں وہ مجھے اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ میں رسمی ملاقاتوں میں اپنا وقت صرف کروں:
The life span at my disposal does not leave any time for symbolic encounters. سالزنیں ٹین کے سامنے ایک محدود مقصد ہے۔ یعنی روسی عوام کی دکھ بھری زندگی کو ناول کے انداز میں پیش کرنا۔ اس مقصد نے اس کے اوقات پر اتنا قبضہ کر لیا کہ اس کے لئے اس کے سوا چارہ نہ رہا کہ وہ صدر امریکہ کے دعوت نامہ کو رد کر دے۔
آدمی کے سامنے اگر کوئی واضح مقصد ہو تو اس کا یہی حال ہوتا ہے۔ مگر جب آدمی کی زندگی مقصد سے خالی۔ ہو جائے تو اس کی نظر میں اپنے وقت کی کوئی قیمت نہیں رہتی۔ وہ اپنا اندازہ خود اپنی رائے سے کرنے کے بجائے دوسروں کی رائے سے کرنے لگتا ہے۔ وہ رسمی جلسوں اور تقریبات میں رونق کا سامان بنتا رہتا ہے۔ وہ اپنے لئے جینے کے بجائے دوسروں کے لئے جینے لگتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی عمر پوری ہو جاتی ہے۔ بظاہر مصروفیتوں سے بھری ہوئی ایک زندگی اس طرح اپنے انجام کو پہنچ جاتی ہے کہ اس کے پاس ایک خالی زندگی کے سوا اور کوئی سرمایہ نہیں ہوتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1982 All issues