خدا کی یاد
الرسالہ، اگست ۱۹۸۲، صفحہ ۱۲
خدا کی یاد
اخبار ہندوستان ٹائمس کے ایڈیٹر نے ایک فیلڈ اسٹڈی (۱۵ مئی ۱۹۸۲) کے ذریعہ ہندوستانی لوں کا مزاج معلوم کیا۔ وہ اپنے مطالعہ کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے کہ ہندوستانیوں کا حال یہ ہے کہ جب کوئی مصیبت پڑتی ہے تو خدا ان کے یہاں سب سےاو اوپر ہوتا ہے۔ جب ہر چیز ٹھیک ہو تو پیسہ سب سے پر آجاتا ہے اور خدا کو دوسرے درجہ میں پہنچا دیتا ہے:
When a catastrophe strikes. God is tops. When all is tranquil, money manages to push God down to the second place. یہ بات نہ صرف ہندوستانیوں کے لئے صحیح ہے بلکہ وہ عام انسانوں کے لئے بھی بڑی حد تک درست ہے۔ انسان کا حال یہ ہے کہ تکلیف اور بے بسی کے لمحات میں وہ سب سے زیادہ خدا کو یاد کرتا ہے۔ اس وقت اس کی ساری توجہ خدا کی طرف لگ جاتی ہے۔ مگر جب حالات اچھے ہوں اور کوئی پریشانی سامنے نہ ہو تو وہ اپنے مادی مفادات کو اپنی تمام توجہ کا مرکز بنا لیتا ہے ۔ مگر اس قسم کی خدا پرستی خدا پرستی نہیں۔ وہ صرف آدمی کے اس جرم کو بتاتی ہے کہ وہ اپنے رب کو بھولا ہوا تھا۔ وہ وقت جب کہ اسے خدا کو یاد کرنا چاہئے تھا اس وقت اس نے خدا کو یاد نہیں کیا۔ یہاں تک کہ خدا نے اس کی حقیقت اس پر کھول دی۔ اس کی آنکھ سے غفلت کا پردہ ہٹ گیا۔ جب ایسا ہوا تو وہ گھبرا کر خدا کو پکارنے لگا۔
انسان ایک آزاد اور با اختیار مخلوق ہے۔ اس سے آزادانہ خدا پرستی مطلوب ہے نہ کہ مجبورانہ۔ انسان کا یاد کرنا وہ یاد کرنا ہے جب کہ اس نے راحت کے لمحات میں خدا کو یاد کیا ہو۔ راحت کے وقت خدا کو بھلائے رکھنا اور جب مصیبت آئے تو خدا کی طرف دوڑنا ایک ایسا عمل ہے جس کی خدا کے یہاں کوئی قیمت نہیں۔
پھر یہ واقعہ بتاتا ہے کہ جو لوگ دولت کو سب سے بڑا درجہ دئے ہوئے ہیں وہ جھوٹے معبود کو اپنا معبود بنائے ہوئے ہیں۔ جو چیز مصیبت کے وقت آدمی کا سہارا نہ بنے، جس کو آدمی خود نازک لمحات میں بھول جائے وہ کسی کا معبود کس طرح ہو سکتی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1982 All issues